مارک زکربرگ نے اپنی کمپنیوں کے ملازمین کی آسائشوں میں کمی کردی
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے ملازمین کی آسائشوں میں کمی کردی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق کورونا ورائرس کے بعدمیٹا کے ملازمین اپنے گھروں سے ہی کام جاری رکھے ہوئے تھے تاہم اب وہ 28 مارچ کو کم و بیش دوسال بعد دوبارہ دفتر آنے لگیں گے۔دفتر میں حاضری کے ساتھ ہی میٹا نے اپنے ملازمین کی ان آسائشوں میں کمی کردی جو کورونا وبا سے پہلے انہیں دستیاب تھیں۔ جن میں سے ایک کپڑوں کی مفت دھلائی کی سہولت بھی ہے۔اس کے علاوہ میٹا نے رات کے کھانے کا وقت بھی 6 بجے سے تبدیل کرکے ساڑھے 6 کردیا ہے۔ملازمین کا کہنا تھا کہ رات کے کھانے کا یہ وقت انتہائی مشکل ہے کیونکہ ملازمین کو گھر پہنچانے والی آخری شٹل سروس شام 6 بجے دفتر سے نکلتی ہے۔کمپنی نے ملازمین کو دوستوں اور اہل خانہ کے لیے کھانا لے جانے کے لیے دوبارہ قابل استعمال کنٹینرز لانے پر بھی پابندی لگادی ۔میٹا کے ایک ملازم نے امریکی اخبارسے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے مالی اعانت بند کردی، اب کپڑوں کی دھلائی بند کرنے سمیت کھانا لے جانے برتنوں پر بھی پابندی لگادی ہے۔دوسری جانب کمپنی کی ترجمان ٹریسی کلیٹن نے سہلویات کے خاتمے سے متعلق کہا کہ ادارے نے اپنی افرادی قوت کی ضررویات کو بہتر انداز میں پورا کرنے کے لیے انہیں دی جانے والی سہولیات میں تبدیلیاں کی ہیں۔


