اوستہ محمد، احساس کفالت پروگرام کی رقوم سے کٹوتی، مستحقین کا احتجاج

اوستہ محمد (انتخاب نیوز) احساس کفالت سینٹر پر کٹوتی اور خواتین کی تذلیل ہورہی ہے جبکہ ادارے کی طرف سے ایک روپے کٹوتی کے لیے منع کیا گیا ہے۔ میڈیا کا منہ بند کرنے کیلئے انہیں بھی حصہ دیا جا رہا ہے مستحق خواتین کا حکام سے کارروائی کا مطالبہ۔ اوستہ محمد میں احساس کفالت سینٹر پر خواتین کی تذلیل ہو رہی ہے، ان کی رقوم سے کٹوتی کا سلسلہ بھی جاری ہے، قلم فروش اور نام نہاد صحافیوں کو بھی خرچا دیکر ان کا منہ بند کرنے کے لیے پیسہ دے رہے ہیں جبکہ احساس کفالت سینٹر کے عملے کا خواتین کے ساتھ رویہ بھی غیر مناسب ہے، دور دراز سے آئی خواتین کے ساتھ انتہائی بدتمیزی سے پش آتا ہے، احساس کفالت سینٹر میں صرف سفارشیوں کو ہی پیسے ملتے ہیں، یا پانچ سو سے ایک ہزار روپے لیتے ہیں، باقی خواتین صرف پورا دن انتظار کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑے میں گزار دیتی ہیں۔ احساس کفالت سینٹر میں نہ کوئی ان کو ترتیب سے بٹھاتے ہیں نہ ہی عزت کے ساتھ ان کو پیسے دی جاتی ہے۔ قبائلی اور بلوچ علاقے میں خواتین کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھنا شرمناک ہے۔ انتظامیہ کا خاموش رہنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ اہالیان علاقہ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، آئی جی پولیس اور احساس کفالت پروگرام کے حکام بالا سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ اس اقرباء پروری کا نوٹس لیں اور تمام خواتین کو عزت کے ساتھ احساس کفالت کے پیسے ملیں اور یہ رشوت کا بازار بند کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں