ریکوڈک پر 50فیصد سے زیادہ حصہ بلوچستان کے عوام کا حق ہے، بی این پی
اسلام آباد، کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ ریکوڈک معاہدہ کسی صورت قبول نہیں اسے مسترد کرتے ہیں بلوچستان کے عوام حق ملکیت چاہتے ہیں خیرات نہیں وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل سے ملاقات کی اور ریکوڈک سے متعلق کہا ہے کہ معاہدہ ہونے کو ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر نے واضح طور پر خدشات وتحفظات اور ماضی میں ہونے والے بلوچستان کے ساتھ رویہ سے متعلق انہیں آگاہ بھی کیا بلوچستان کے ساحل وسائل کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی سے لوٹا گیا بلوچ اور بلوچستانی عوام کو ان کا حق کبھی بھی نہیں دیا گیا بلکہ دو فیصد خیرات دی گئی جو بلوچ اور بلوچستانی عوام کی تذلیل کے مترادف ہے پارٹی اصولی موقف پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے کہ اپنے سرزمین کے ساحل وسائل کی حفاظت کریں گے یہ سلسلہ آباؤ اجداد سے چلا آرہاہے پارٹی ایک بار پر اعادہ کرتی ہے کہ ہم بلوچستان کے ساحل وسائل پر واک اختیار،حق ملکیت سے کبھی پہلو تہی نہیں کرسکتے پارٹی قومی جمہور ی اور شہداء کی حقیقی وارث ہے جو ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اس سے قبل بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل ودیگر مرکزی رہنماؤں نے پریس کانفرنسز کے ذریعے یہ واضح کی تھی کہ ریکوڈک معاہدہ میں خیرات نہیں بلکہ حق ملکیت چاہتے ہیں صوبے کا حق 50فیصد سے زیادہ ہونا چاہیے ماضی میں تیل وگیس سمیت قدرتی دولت کو بے دردی سے لوٹا گیا اب ایسا نہیں ہونے دیں گے ریکوڈک کے مقام پر ریفائنری کے قیام کو یقینی بنایا جائے جس سے یہ واضح ہوکہ ریکوڈک سے کتنا سونا، چاندی ودیگر ذخائر نکالے جارہے ہیں ماضی میں سیندک سمیت دیگر کو سائل مال غنیمت سمجھ کر لوٹا گیا جس کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا گیا بی این پی سمجھتی ہے کہ اب جو معاہدہ کیا گیا ہے جس میں FREE CARRYاور بلوچستان کی سرمایہ کاری کی شرائط دونوں کو ملاکر کل25فیصد رکھا گیا ہے جو کسی بھی صورت قبول نہیں، جام جمال حکومت میں تھے تو ان کی پالیسیوں کا تسلسل ہے 25فیصد نہیں بلکہ 50فیصد سے زیادہ بلوچستان کے عوام کا حق بنتا ہے بی این پی قیادت میں واضح کرچکی ہے کہ ماضی میں جو خیرات دی جاتی رہی اب ایسا کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں بلوچستان کے غیور عوام کا حق اپنے وسائل پر زیادہ بنتا ہے اس سے کم کا معاہدہ کسی بھی صورت قبول نہیں حکمران اپنی گروہی مفادات کو مد نظر رکھ رہے ہیں جو قابل تشویش ہے موجودہ حکمرانوں نے جو اسلام آباد میں ریکوڈک معاہدہ کیا اگر دیکھا جائے تو عدم اعتماد تحریک پیش ہونے کے بعد کوئی ایسا معاہدہ نہیں کرنا چاہیے پالیمان کا اعتماد حکمرانوں سے اٹھ چکا ہے مگر حکمران اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے ساحل وسائل کو مال غنیمت سمجھ رہے ہیں ایسی استحصالانہ روش پر عمل پیرا ہیں بی این پی پھر یہ کہنا چاہتی ہے کہ مختلف اوقات میں ریکوڈ معاہدے پر جن خدشات وتحفظات کا اظہار کیا ہے ان کو اگر دورنہ کیا گیا تو پارٹی معاہدہ مسترد کرتی ہے اور یہ واضح کہنا چاہتی ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ بہت ناانصافیاں ہوچکی اب مزید بلوچستان کے عوام معاشی اور معاشرتی استحصال کے متحمل نہیں ہوسکتے ریفائنری کی شرائط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور ریکوڈک میں جتنا بھی حق بنتا ہے اس محفوظ رکھا جائے اس کے برعکس بی این پی بڑی عوامی طاقت ہونے کے ناطے ماضی کی طرح آج بھی جدوجہد پر عمل پیرا ہے ہماری سیاست کا محور ومقصد بلوچستان کے ساحل وسائل اور حق ملکیت،سرزمین کی حفاظت ہماری جدوجہد ہے۔


