عدم اعتماد کا معاملہ28مارچ تک ملتوی

گزشتہ روز 25مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس مرحوم رکن کی فاتحہ خوانی کے بعد پیر28مارچ تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔اس کے معنیٰ یہی ہوتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بحث مباحثہ اور باضابطہ کارروائی کا آغاز پیر سے ہوگا۔ہفتہ اور اتوار کو اپوزیشن اور حکومت کے جلسے منعقد ہوں گے۔دونوں فریق اپنی اپنی قوت کامظاہرہ کریں گے دونوں کا دعویٰ ہے کہ عوام کی اکثریت میرے ساتھ ہے۔ان جلسوں کا تحریک عدم اعتماد کی منظوری یا ناکامی سے براہ راست یابالواسطہ کوئی تعلق نہیں۔ان جلسوں سے حکومت اور اپوزیشن کو نفسیاتی فائدہ ہوگا۔عمران خان کے بارے میں اپوزیشن (پی ٹی آئی کے بعض سمیت) یقین ہوگیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے شدید ناراض ہیں کیونکہ ساڑھے تین سال کے دوران مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔عام آدمی کیلئے جینا مشکل ہوگیا ہے۔بجلی،پیٹرول،ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں۔اس کے نتیجے میں اشیائے خوردنی مہنگی ہوئیں اور عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئیں۔عمران خان عوام کا سامنا نہیں کرسکیں گے ان پرانڈوں اورٹماٹروں کی بارش ہوگی۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مشورہ دیا تھا کہ وزیراعظم ہیلمٹ پہن کر عوام میں جائیں۔مگر عوام نے مہنگائی کے باوجود جس طرح ان کا والہانہ اور پرجوش استقبال کیا،اپوزیشن کی توقعات اور اندازوں کے برعکس تھا اوورسیز پاکستانی بھی اسلام آباد کے جلسے میں شرکت کیلئے پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔پاکستانی سیاست میں یہ خوشگوار اضافہ ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کی سرگرم شمولیت سے عمران خان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملا ہے۔اس کے باوجود حکومت کہہ رہی ہے کہ اگر172اراکین نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی حمایت نہ کی تو عمران خان اپوزیشن بینچوں پربیٹھیں گے۔آج کل تحریک عدم پرمحفل میں مرکزی موضوع بناہوا ہے۔مبصرین کی اکثریت کنفیوز ہے اس لئے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو فتح کا ایک جیسا یقین ہے۔اصل حقائق سے دونوں فریق واقف ہیں۔جس فریق کوشکست کا سامنا ہے وہ اچھی طرح اس حقیقت سے واقف ہے۔اسے بخوبی علم ہے کہ28مارچ کو قومی اسمبلی کے فلور پر کیا منظر رونماہوگا لیکن اس کی مجبوری ہے کہ ازوقت اس کااظہاریاانکشاف نہیں کرسکتا۔اس فریق کا بھی یہی حال ہے وہ جس کے قدم چومے گی۔وہ بھی دوسرے فریق کی طرح مجبور ہے کہے بھی تو سوائے اس کے حامیوں کے کوئی یقین نہیں کرے گا۔لہٰذا فیصلہ کا اعلان جب بھی ہوگا ایوان میں ہوگا۔سڑکوں پریامیدانوں میں مخالف فریق کو صرف گالیاں دی جاسکتی ہیں۔برابھلا کہاسکتا ہے۔اس کی جی بھر کے تضحیک کی جارہی ہے۔اس کے سوا کسی فریق کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔یہ اعصابی جنگ دودن مزیدجاری رہے گی۔28مارچ کو اس کا ڈراپ سین ہوجائے گا۔ایک فریق اپنے سرپرکامیابی کا تاج سجائے عوام اور خواص کی جانب سے مبارکباد وصول کررہا ہوگا۔عالمی سطح پر اسے پسند کرنے والے مبارکباد کے پیغام بھیجیں گے۔ٹوئٹرنے یہ کام آسان کردیاہے۔ناکام فریق اپنی شکست کے اسباب گنواتا نظرآئے گا۔فلاں فلاں نے وقت پر ساتھ چھوڑدیا۔ہمیں اپنی حمایت کا پختہ یقین دلانے والے مصلحت پسندی کا شکار ہوگئے لالچی ثابت ہوئے۔خوفزدہ ہوگئے۔بک گئے۔بول بچن کا شکار ہوگئے ان کوکبھی معاف نہیں کرے گی۔ان کی آئندہ نسلیں منہ چھپائی نظرآئیں گی۔مبصرین دستیاب معلومات کی مدد سے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔تھوڑا بہت اثران کی فکری سوچ کاہوتا۔جس فریق کی سوچ حالات حاضرہ کا مکمل ادراک رکھتی ہوگی۔وہی فریق کامیابی سے ہمکنار ہوگی اس کے برعکس حالات حاضرہ اور روشن مستقبل سے بے خبر فریق ناکامی کے داغ سمیٹے گا۔ماضی کی فرسودہ سوچ سے لپٹاہوا فریق وکٹری اسٹینڈ پر تعریفیں کرتا ہوا آئے گا۔عدالتی فیصلہ پاکستانی سیاست کی راہ متعین کرے گا سپریم کورٹ کا5رکنی لارجر بنچ جو فیصلہ سنائے گا اس کی تعمیل سے کوئی فریق انحراف نہیں کرسکے گا۔یہ افسوسناک صورتحال خود بخود پیدا نہیں ہوئی،سیاستدانوں نے اپنا پارلیمانی کردارادا کرنے میں غفلت برتی۔قانون ساز ادارہ اگر سنجیدگی سے کام کرتا تو سپریم کورٹ کا5رکنی لارجربنچ تشکیل دینے کی قطعاً ضرورت پیش نہ آتی۔63-Aکی تشریح پارلیمنٹ خود پارلیمنٹ کے فلور پر کرلیتی تو یہ مناظر دیکھنے کو نہ ملتے۔عدالت جو سوالات پوچھ رہی ہے ان کی نوبت نہ آتی۔ٹی وی ٹاک شوز پر سیاست دان جو سوال اٹھارہے ہیں ان سے عدالت بے خبر نہیں۔اسی تناظر میں عوام انتظار کررہے ہیں پارلیمنٹ اراکین اپنی فہیم فراست کے مطابق فیصلہ دیں گے۔وہ حتمی ہوگا دودن کی بات ہے گزرجائیں گے۔سچ کا نتیجہ سامنے آجائے گا انتظار کیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں