عمران خان عالمی سازش کی کہانی قوم کو سنا کر اپنی حکومت کو بچا رہے ہیں، احسن اقبال
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں انویسٹمنٹ کیلئے تیارنہیں، عمران خان خود کو قائداعظم ثانی، دوسروں کوچوراور غدارسمجھتے ہیں، عمران خان نے سی پیک کوتباہ و برباد کر دیا، وزیراعظم پچ پرمزید کھڑے ہونے کے لائق نہیں، عمران خان کومیچ جیتنے کیلئے 172 ارکان کا ہدف ہے، اسٹیڈیم میں تماشائی بھرنے سے میچ نہیں جیتا جاتا ،عمران خان فیل ہوچکے، نیٹ پریکٹس کی ضرورت ہے، اسمبلی میں ارکان عدم اعتماد کرچکے، عمران خان اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرکے ریٹائرڈ ہو جاتے۔ پیر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن)احسن اقبال نے کہا کہ اگر عمران خان آزاد خارجہ پالیسی کی سزا بھگت رہے ہیں تو انہوں نے ہمت کیوں نہیں کی اور کیوں نہیں بتاتے کہ کس نے خط لکھا اور دھمکی دی،یہ وہی ڈرامہ تھا جس میں عمران خان قوم کو 35پنکچر کی تفصیل سناتے رہے، 2013کے الیکشن میں بھی 35پنکچر لگائے گئے ہیں،جب عدالت نے تفصیل کا پوچھا تو پتہ چلا کہ کسی نے ان کے کان میں پھونک ماری اور خبر کو نشر کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کا کوئی ثبوت ان کے پاس موجود نہیں ہے،جب خط کے بارے میں ان سے استفسار ہوگا تو انہیں پتہ چلے گا کہ کسی راہ چلتے نے انہیں فوٹو کاپی پکڑادی جس کی وجہ سے یہ عالمی سازش کی کہانی قوم کو سنا کر اپنی حکومت کو بچا رہے ہیں،کل کی وزیراعظم عمران خان کی جلسے میں تقریر کا تعلق عدالتی ریفرنس سے ہے جو سپریم کورٹ میں زیرغور ہے،خان صاحب کہہ رہے تھے کہ ن لیگ اور ان کے ایم این ایز کا ضمیر جاگے گا اور میرے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن اراکین کو ضمیر کی پکار پر دعوت دے کر کہہ رہے کہ وہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو چھوڑ کر وفاقی حکومت کا ساتھ دے،اگر پی ٹی آئی کے ایم این ایز ہمارا ساتھ دے تو کیا یہ غلط اور ہمارے لوگ ادھر جائیں تو ٹھیک، کیا یہ ضمیر فروشی ہے ؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے،اگر آپ پنجاب میں ن لیگ کے ایم پی ایز کو توڑ کر اپنی پارٹی سے انحراف کرائیں، انہیں ڈویلپمنٹ فنڈز دیں اور ہارس ٹریڈنگ کرائیں وہ کیا آپ کے لئے حلال ہے، کیا وہ ضمیر کی آواز ہے؟انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی جیب سے اپنی مرضی کے اخلاقیات نکالتے ہیں اور جو انہیں سوٹ کرتا ہے اسے ریاست مدینہ کا لیبل لگا کر قوم کے سامنے پیش کردیتے ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ اب ان کے جھوٹ اور فراڈکا وقت ختم ہو چکاہے،اس حکومت نے پاکستان کی معیشت،اندورنی اتحاد اور سلامتی کا نقصان کیا وہ ناقابل تلافی ہے،میچ تماشائی بھرنے سے نہیں جیتا جاتا اس میں وننگ سکور دینا ہوتا ہے،اگر 172کی اننگز نہیں کھیل سکتے تو آپ ہار چکے ہیں، آپ ہارچکے ہیں چاہے پوری دنیا سے اسٹیڈیم کو بھر لیں جو کھلاڑی پرفارم نہیں کرتا اس کی پچ پر کوئی جگہ نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ آپ چار سال فیل ہوئے آپ کو پچ کی نہیں بلکہ نیٹ پریکٹس کی ضرورت ہے،آپ نے پاکستان کو پوری دنیا میں تنہا کھڑا کر دیا ہے،دو اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی لیکن آپ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کوئی سبٹینڈنگ قرارداد نہ منظور کراسکے،آپ نے سی پیک کو بھی تباہ و برباد کر دیا۔


