عدم اعتماد جمہوری عمل ہے، بلوچستان میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی، نوابزادہ گہرام بگٹی

ڈھاڈر (انتخاب نیوز) جمہوری وطن پارٹی کے پالیمانی لیڈر بلوچستان اسمبلی صوبائی مشیر لیبر مین پاور نواب زادہ گہرام خان بگٹی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے بلوچستان میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے عدم اعتماد ایک جمہوری عمل ہے مگر بار بار عدم اعتماد کی تحریک کو نہیں آنا چاہیے بلکے ہمیں صوبے کے مسائل کو حل کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے لانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا صوبائی حکومت نے ریکوڈک پر صوبے کے قومی حقوق پر احسن اقدام کیا ہے جس سے یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کے لیئے روزگار کے دروازے کھولیں گے 8ہزار ملازمتیں اور 25فیصد صوبے کو ملنے والی رقم سے بلوچستان ترقی وخوشحالی کی جانب گامزن ہوگا انہوں نے کہا ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے عوام کے لیئے گیس کی فراہمی کے لیئے کئی بار وفاقی وزیر سے میٹنگ کرچکے ہیں لیکن مرکزی حکومت نے صرف جوٹھی تسلیوں کے ماسوائے اب تک کوئی عملی جامعہ کام نہیں کیا حلقے کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنے آبا اجداد کی سیاسی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ہمیں احساس ہے کہ حلقہ انتخاب کافی مسائل میں گہرا ہوا ہے موجودہ وقت میں ہم نے کافی مسائل کو حل کیا ہے اور اپنی تمام تر عوامی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے حلقے کے مسائل کو محدود وسائل میں رہتے حل کر رہے ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کے مرکزی چیئرمین رکن قومی اسمبلی نواب زادہ شاہ زین بگٹی نے صوبے اور حلقے کے مفاد عامہ کے لیئے سب سے پہلے وہ رکن ہیں جنہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے کر عدم اعتماد کی تحریک پر اپوزیشن کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے ،انہوں نے کہا جمہوری وطن پارٹی نے مرکزی حکومت سے اتحاد حمایت اس نقطہ نظر پر کیا تھا کہ صوبے کے لوگوں کو انکے قومی حقوق دیئے جائیں اور امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے لیکن مرکزی حکومت اور اسکے وفد ہمیشہ سے جھوٹی یقینی دہانی کرواتے رہے جس کی وجہ سے پارٹی نے فیصلہ کیا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں کسی صورت پیچھے نہیں ہیٹھے گی۔ انہوں نے کہا جمہوری وطن پارٹی شہید نواب اکبر خان بگٹی کے منشور اور انکے کاروان کو جاری رکھے ہوئے ہیں پارٹی پاکستان بھر میں بلارنگ ونسل اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل جاری ہیں انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کہا کہ اب تک اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں کی گئی لیکن بہت جلد پارٹی کامرکزی اجلاس بلایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں