پنجاب کا سیاسی معرکہ، ن لیگ کے پی ٹی آئی کے مختلف گروپس سے رابطے
لاہور (انتخاب نیوز) پنجاب کا سیاسی معرکہ سر کرنے کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے جہاں شہباز شریف اورحمزہ شہباز کے پی ٹی آئی کے مختلف گروپس سے ٹیلی فونک رابطے کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے چھینہ گروپ کے غضنفر عباس چھینہ سے رابطہ کیا، لیگی رہنماں اور غضنفر عباس چھینہ کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماں نے پنجاب میں متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت مانگ لی جس پر غضنفر عباس چھینہ نے گروپ کے ساتھ مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا جب کہ حمزہ شہباز جلد چھینہ گروپ سے ملاقات بھی کریں گے۔بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے جہانگیر ترین گروپ کے اہم رہنماں سے بھی ٹیلی فونک رابطے کیے گئے، ان رابطوں میں ترین گروپ کی جانب سے اپوزیشن کو مثبت اشارہ دیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ادھر صوبہ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے پرویز الہی کو وزیراعلی بنانے کے لیے نمبر پورے ہونے کا دعوی کردیا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے کے لیے نمبرز پورے ہوگئے ہیں، ناراض اراکین بھی چوہدری پرویز الہی سے رابطے میں ہیں اور ان کی حمایت حاصل ہے اور چند ناراض اراکین جلد پرویز الہی کے ساتھ ہوں گے، جہانگیر ترین گروپ سے بھی رابطے میں ہیں، جلد اس حوالے سے بھی مثبت پیش رفت ہوگی جب کہ ن لیگ کے افراد بھی پرویز الہی کے ساتھ ہیں۔دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، چوہدری پرویز الہی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اپنے عہدے سے استعفی نہیں دیں گے بلکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے پر رہتے ہوئے ہی وزیراعلی کا ووٹ لیں گے اور اعتماد کا ووٹ ملنے کی صورت میں اسپیکر کے عہدے سے مستعفی ہوں گے اور اگر اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہ لے سکے تو اسپیکر کے عہدے پر ہی کام جاری رکھیں گے جب کہ آئین کے تحت اسپیکر کا عہدہ رکھتے ہوئے اعتماد کا ووٹ لیا جاسکتا ہے لیکن وزیراعلی منتخب ہونے پر آئین کے تحت اسپیکر کا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔


