سوئی سدرن کی اوگرا کوگیس قیمت 44 فیصد بڑھانے کی درخواست
کراچی (انتخاب نیوز) سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ(ایس ایس جی سی)نے اوگرا سے مالی سال 2022-23 میں ریونیو شارٹ فال سے بچنے کیلیے قیمتوں میں 44.8 فیصد اضافے کی درخواست کردی۔گذشتہ روزآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)نے ایس ایس جی سی کی مالی سال 2022-23 کے لیے ریونیو کی تخمینہ شدہ ضروریات / قیمتوں کے تعین کے لیے پٹیشن پر غور کے لیے عوامی سماعت کا انعقاد کیا۔ایس ایس جی سی نے گیس بزنس میں مالی سال 2022-23 کے لیے یکم جولائی 2022 اوسط قیمت 1,013.02 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اسی طرح آر ایل این جی کی کاسٹ آف سروس16.47روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی تجویز کی ہے۔ سوئی سدرن نے مالی سال 2022-23 کے لیے ریونیو کی تخمینہ شدہ ضروریات / قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا میں پٹیشن 14فرروی 2022 کو دائر کی تھی۔کمپنی کے مطابق مجموعی طور پر اسے 88 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے لہذا گیس کی قیمتوں میں 44 فیصد اضافے کی اجازت دی جائے۔ عوامی سماعت میں کئی سوالات اٹھائے گئے مثلایہ کہ کیا مالی سال 2022-23 کے لیے کمپنی کا ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کے ضمن میں 22,585 روپے کے اخراجات کا دعوی درست ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مقامی سطح پر گیس کی سپلائی میں کمی آرہی ہے۔اسی طرح کمپنی کا 132,000 نئے گھریلو کنکشن اور آر ایل این جی پر 713 نئے تجارتی /صنعتی کنکشن دینے کا دعوی صحیح ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا کمپنی کا 7,719 ملین روپے کی لاگت سے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں 1,123 کلومیٹر کی وسعت کی مجوزی تجویز سود مند ہوگی۔


