سوشل میڈیا پر بلوچ سیاسی قیادت کیخلاف منفی پروپیگنڈہ سازش ہے، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے ایک مخصوص ٹولے کی جانب سے سوشل میڈیا پر بی ایس او اور بلوچ سیاسی قیادت کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت منفی پروپگینڈوں کو ایک کھلی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روز اول سے اس طرح کے چند گروہ کچھ قوتوں کے اشاروں پر بلوچ طلباءتنظیموں کیخلاف رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جنکا مقصد طلباءکے اندر انتشار پیدا کرکے انکو قومی جدوجہد سے دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چند سال پہلے ظریف رند نامی شخص (جس کو بی ایس او پجّار سے آئین کی سنگین خلاف ورزی پر نکالا گیا تھا) نے چند لوگوں کو جمع کرکے بی ایس او کا مقدص نام استعمال کرنا شروع کیا جس پر تنظیمی ذمہ داران نے ان سے باز پرس کی لیکن سیاسی اخلاقیات سے عاری گروہ نے خود کو ہیرو بنانے اور اپنے دیے گئے مخصوص ٹاسک کو پورا کرنے کیلئے طلباءکے اندر کنفیوڑن پیدا کرنے کی رویے کو ترک نہیں کیا۔ ترجمان نے کہا ہے کہ ان لوگوں نے خواس باختہ ہوکر نہ صرف بی ایس او کے نام پر جعلی بیانات جاری کرنا شروع کیے بلکہ صوبائی سیکرٹریٹ اور اساتذہ سے نام نہاد کونسل سیشن کے نام پر چندہ بھی وصول کیا جس پر تنظیم نے اپنے بیان سے قوم کو آگاہ کیا کہ یہ لوگ ایک مخصوص ایجنڈہ پر عمل پیرا ہوکر بلوچ طلباءسیاست کو پھر سے تقسیم کا شکار بنانا چاہتے ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ظریف گروپ نے بی ایس او کا نام استعمال کرکے نام نہاد کونسل سیشن کا اعلان کیا۔اساتذہ،سیاسی پارٹیوں اور سرکاری آفسران سے چندے کے نام پر بھتہ بھی وصول کیا۔جب تنظیم اور باشعور بلوچ طلباءکی جانب سے انکو شال کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں کونسل سیشن کرنے نہیں دیا گیا تو انھوں نے سرکاری اتحاد میں شامل جماعت ‘بی این پی عوامی’ کے ذریعے اسپورٹس کمپلکس میں کمرہ بک کرائے اور سریاب کے کسی گلہ گودام میں اپنا پروگرام کیا۔تربت کے مختلف اسکولوں سے 30 سے کم معصوم طالبعلموں کو گودام میں بٹھا کر ٹوپی ڈرامہ رچایا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی اقدار اور رویات کی امین تنظیم بی ایس او نے انتہائی سنجیدگی و سیاسی بالیدگی کا مظاہرہ کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ تنظیم کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سینئر دوستوں نے اسی دن اس ٹولے کے پاس جاکر ان سے گفت و شنید کی اور انھیں تنبیہ کیا کہ اپنا نام تبدیل کرے۔ لیکن اس غیرسیاسی ٹولے نے سیاسی اور بلوچی رویات کو پاو¿ں تلے روند کر اس وقت تو اپنا نام تبدیل کرنے ک مان لیا لیکن ہال جاکر مکر گئے۔ ظریف گروپ کے چند سنجیدہ اور سینئر ساتھیوں نے نام نہاد کونسل ہال میں ایک ڈرافٹ بھی پیش کی جس پر واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ہم اس وقت آپکے ساتھ نہیں چل سکتے جب تک آپ کسی دوسرے تنظیم کا نام اپنے مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہو۔ اپنے ہی اراکین کی ڈرافٹ کو غیرسنجیدہ اور سازش سمجھ کر کونسل ہال سے پاس ہونے نہیں دیا گیاجس پر بیشتر اراکین نے اس نام نہاد کونسل سیشن سے نہ صرف واک آو¿ٹ کیا بلکہ باہرجاکراس گروہ سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا۔لیکن ظریف گروپ کے شرپسند اور غنڈہ گرد ٹولے نے ان ممبران کو سنگین دھمکیاں دینا شروع کیا (جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں) اپنے ہی سابقہ ممبران کو ہراساں کرکے انکی عزت اچالی گئی۔ بی ایس او کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک انتہائی شاطرانہ حکمت عملی کے تحت ظریف رند نے خود سائیڈ ہوکر ٹولے کی کمان چنگیز بلوچ نامی شخص کو دے دی جو بیوٹمز یونیورسٹی میں لیکچرار ہے۔ یہ ٹولہ بی ایس او کو توڑنے اور بلوچ طلباءکو تقسیم کے بیرونی ایجنڈوں پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ میدان میں کنفیوژن پیدا کرتا آرہاہے۔ 31 مارچ کو جامعہ بلوچستاب میں بی ایس او کی جانب سے کامیاب بلوچستان ایجوکیشنل کانفرنس کی انعقاد کے بعد اس ٹولے کو ایک نیا ٹاسک دے دیا گیا ہے جسکا مقصد تنظیم کے خلاف سوشل میڈیا پر بے پروپگینڈہ اور سیاسی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ ان سازشی عناصر سے جب سوشل میڈیا پر تنظیمی ذمہ داران کی جانب سے بھرپور سیاسی جواب دی گئی تو سیاسی دلیل سے عاری یہ لوگ اب بلوچستان کے سیاسی قائدین کے خلاف غیراخلاقی اور بچکانہ زبان استعمال کررہے ہیں۔ چنگیز ٹولے کے رہنماءاورنگزیب نامی شخص گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر نہ صرف بی ایس او کے کارکنان کے خلاف غیرشائستہ زبان استعمال کررہا ہے بلکہ بلوچ سیاسی قائدین اور سیاسی پارٹیوں کے خلاف بھی بھرپور مہم چلارہا ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ یہ لوگ اب کھلے عام بلوچ سیاست کے خلاف لاو¿نچ ہونے جارہے ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ انتہائی باعث حیرانگی کی بات ہے کہ اس گروہ کے رہنماءاور اسکے سربراہ ایک طرف تو تنظیمی ذمہ داران سے ملنے کا التجا کرتے ہیں اور کچھ طلباءتنظیموں کے سنجیدہ ذمہ داران کو بحثیت ثالت شامل کراکے ہم سے مزاکرات کرکے اپنے گروپ کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ہلڑ بازی ،غیرسیاسی زبان کی استعمال اور فیک آئی ڈیز بناکر گالیوں پر اتر آئے ہیں۔ ترجمان نے اپنے بیان کے آخرمیں تمام بلوچ طلباءتنظیموں،اساتذہ،سیاسی پارٹیوں اور بلوچ نوجوانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اس گروپ کے عزائم سے واقف ہوکر نہ صرف انکی حوصلہ شکنی کی بلکہ انکو مکمل طور پر مسترد کردیا۔ بلوچ قوم سے مسترد شدہ اس ٹولے کے ساتھ ہم پھر بھی سیاسی مباحثوں سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اس بار اگر انھوں نے اپنا بچکانہ اور غیرسنجیدہ رویہ جاری رکھا تو سیاسی طور پر بھرپور جواب دیکر انکا چہرہ آشکار کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں