مسلم لیگ نون مشکلات کے گرداب میں

پاکستان اقوام متحدہ میں موجود 193ممالک میں سے ایک ملک ہے،سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 22کروڑہے جبکہ محتاط اندازوں کے مطابق اصل آبادی 24کروڑ کے لگ بھگ ہے۔سرکاری مردم شماری کے حیران کن اعدادو شمار کراچی اور سندھ کے شہری حلقوں نے قبول نہیں کئے تھے۔اس کی وجہ لاہور شہر کی آبادی کا بڑھنا اور کراچی کی آبادی کا کم ہونا تھی، جسے قبول کرنا مشکل تھا۔سب جانتے ہیں کہ روزگار کی تلاش میں ملک بھر سے آبادی کا بڑا حصہ کراچی کا رخ کرتا ہے۔ کچی آبادیاں اس اضافے کا واضح ثبوت ہیں۔یاد رہے ماضی میں بعض سیاست دانوں نے انتقال آبادی کے حجم کو ریکارڈ پر لانے کے لئے ورک پرمٹ جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی، مگر اس پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوسکا۔اس تناظر میں کیسے مان لیا جاتا کہ لاہور کی آبادی بڑھی مگر کراچی میں کم ہوگئی۔وفاق اصل اعدادو شمار جاری کرنے بوجوہ خو ف زدہ ہے۔سندھ کی صوبائی حکومت کی اپنی مصلحتیں ہیں۔شہری اور دیہی تناسب سے خدشہ ہے کہ نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں،اس لئے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ لیکن تاریخ حکمرانوں کی خواہشات کے تابع نہیں، اپنے قوانین اور زمینی حقائق کے تابع ہے۔معاشرتی علوم کے ماہرین نے سادہ ترین قانون بتایا ہے:”سیاست معیشت کے تابع ہوتی ہے“۔انسانی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والے اس نتیجے پر پہنچے کہ آلات پیداوار تبدیل ہوجائیں تو پیداواری رشتے بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔پتھر کے زمانے میں سب آزاد تھے، کوئی کسی کا آقا نہیں تھا اور نہ ہی غلاموں کا وجود تھا۔انسانی ضرورت کے تناسب سے زیادہ اناج اگایا جانے لگا، کاشت کاری کا دور آیا تو زرخیز اراضی پر قبضہ اور کھیتوں میں کام کرنے کے لئے غلام درکار تھے،اس دور کو جاگیرداری دور کہا گیا، جاگیریں وسیع ہوئیں تو نظم و نسق سنبھالنے کے لئے بادشاہتیں قائم ہوئیں۔جب تک کاشت کاری ہل اور بیلوں کی جوڑی تک رہی،پیداوار رشتے آقا اور غلام تک محدود رہے۔تاریخ آگے بڑھی،مشینوں کا استعمال شروع ہوا تو سیٹھ(سرمایہ دار) اور مزدروں کے درمیان آجر اور اجیر کا رشتہ وجود میں آیا۔اس کے ساتھ ہی مزدور شہروں کا رخ کرنے لگے۔جاگیر دار نے انہیں کھیتوں میں روکنے کے کہا:”یہ کھیت تمہاری پرورش ماں کی طرح کرتے ہیں، تمہیں شرم نہیں آتی کہ اپنی ماں کو چھوڑ کر جارہے ہو!“،ادھر سرمایہ داروں نے نیا نعرہ لگایا:”انسان آزاد پیدا ہوا ہے، تمام انسان برابر ہیں“۔اس نعرے نے جمہوریت کو جنم دیا۔مگر جمہوریت کی گردن جاگیردار کے ہاتھوں میں رہی۔ اس طبقے نے کارخانوں میں سرمایہ کاری کی اور پارلیمنٹ میں پہنچ کر اپنی مرضی کی قانون سازی کی۔ کارل مارکس نے کہا:”یہ سچ ہے کہ پل سے چھلانگ لگانے کا سرمایہ دار اور مزدور دونوں کو اختیار حاصل ہے، مگر خودکشی اپنی معاشی مجبوریوں سے تنگ آ کرصرف مزدور کرتا ہے“۔ کارل مارکس نے اس حقیقت کی نشاندہی بھی کی:”مزدوروں کے کھونے کے لئے زنجیریں اور بیڑیاں ہیں جبکہ پانے کو ساری دنیا ہے“۔اس نعرے کو پذیرائی ملی اور سرمایہ داری نظام کے مقابلے میں سوشلزم اور کمیونزم کو توانائی ملی۔پیرس کمیون، انقلابِ فرانس اور روس میں پرولتاری(مزدور) انقلاب تاریخ کا حصہ بنے۔ دوسری جنگ عظیم کے آخری ایام میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر اپنا رعب و دبدبہ قائم کیا اور ایٹمی طاقت ہونے کی بناء پر سرمایہ دار دنیا کا طاقتور نمائندہ بن کر کمیونسٹ اور سوشلسٹ ممالک کا اقتصادی محاصرہ کرنے میں کامیاب رہا۔ لیکن31اگست2021 (کابل سے انخلاء)کو اس کے عالمی طاقت ہونے کے دعوے کو شدید دھچکہ لگا۔افغانستان میں نیٹو افواج کے ساتھ مل کر فوجی اسلحہ اور سازو سامان کے لحاظ سے کمزورافغان عوام کے خلاف لڑنے کے باوجود ناکامی اس کا مقدر بنی۔ امریکی افواج کی خوف زدگی کا یہ عالم تھا کہ لوگوں کو ویت نام سے امریکی پسپائی کے مناظر یاد آ گئے اور امریکہ کو کہنا پڑا:”نہیں ویت نام سے نکلتے وقت ہم چھتوں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکلے تھے، کابل میں یہ نوبت نہیں آئی“۔کوئی مانے یا مانے،تاریخ کا ارتقائی سفر جاری ہے،یہ الگ بات ہے کارل مارکس کے بعد آلات پیداوار میں آنے والی تبدیلیوں اوران تبدیلوں سے بدلتے پیداوار رشتوں کے درمیان پائے جانے والے نازک کو اجاگر کرتا۔آٹومائزیشن کارل مارکس کے بعد پیداواری آلات میں شامل ہوا۔اس نے کون کون سے پیداواری رشتوں کو متأثر کیا؟آلات پیداوار میں ایسی جدید تبدیلی کا جدلیاتی بنیادوں پر تجزیہ کرنے والا رہنماعالمی سطح پر نظر نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم چین کی ہوشربا ترقی کے بارے میں۔۔۔”دو اور دو چار“،جیسا کوئی فارمولہ وضع نہیں کر سکے۔سو سال پہلے کی اصطلاحات استعما ل کرکے نئی نسل کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ نئی نسل کمپیوٹر اور موبائل کی آفاقی دنیا میں گم ہے۔جدید تقاضوں سے بے خبر ”دانشور“ فرسودہ اور گھسی پٹی اصطلاحات کی مدد سے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اورماضی کی کسی علامتی”نرگس“ کی ہزاروں سال بے نوری کے مرثیئے سناتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ سیاست دانوں کا ایک گروہ 90کی دہائی میں گم ہے، اس میں 2022 اور اس سے آگے دیکھنے کی سکت نہیں۔دکھ کی بات یہ ہے ان کے سہولت کار بھی تاحال 90کی دہائی کی فکر سے باہر نہیں نکلے،ورنہ زیر بحث مراسلے حوالے سے مداخلت ہونے کا اقرار اور سازش کا انکار
کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔علاوہ ازیں اتنی جلدی فیصلہ تبدیل کئے جانے کی افواہیں یا اطلاعات وی لاگرزپورے وثوق سے چوبیس گھنٹے یو ٹیوب چینلز پر نہ دکھا رہے ہوتے۔نجی ٹی وی وی چینلز آنے والے اینکرزبھی کھل کر داستان کے تمام تانے بانے جوڑنے سے گریز کرتے۔ عام آدمی مہنگائی کو بھول کر دوسرے نعروں کی طرف نہ لپکتا۔مسلم لیگ نون کو اقتدار سنبھالتے ہی اشیائے خوردنی کے دام نہ بڑھانے پڑتے۔آج کا سیاسی منظر دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون کی توقع سے زیادہ مشکلات نے اسے گھیر لیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کابینہ کی حلف برداری سے پہلے ہی عوام کی امانت عوام کو واپس کرنے کا تقاضہ شروع کر دیا ہے،البتہ وہ گدلے پانی کو صاف کرنے مہلت دینے کو تیار ہیں۔سردار اختر مینگل پنجاب اسمبلی کے مناظر دیکھ کر محتاط ہو گئے ہیں، بلوچستان اسمبلی میں ایسا ہوتا دیکھنے کو تیار نہیں۔مسلم لیگ نون کے اہم رہنماشاہد خاقان عباسی وزارت لینے سے انکاری ہیں۔ کوئی تو سوچے یہ سب کیوں ہوا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں