نئی حکومت کی ذمہ داری
مسلم لیگ ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لندن میں ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ حکومت کے ان اقدامات کا ذکر کیا جن کی وجہ سے پاکستان سیاسی معاشرتی طور پر بدترین افراتفری اور انارکی کا شکار ہوا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ سابقہ حکومت نے معیشت کا جو حال کیا ہے اسے بحال کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام جماعتیں مل کرملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کی کوشش کریں گی کیونکہ تنہا کسی پارٹی کے بس میں نہیں کہ وہ اتنے گھمبیر حالات کو سنبھال سکے۔ بہرحال موجودہ حکومت سابقہ حکومت کی برائیاں، ناکامیاں اور کوتاہیاں لاکھ گنوائے ملکی حالات کو سنبھالنا اور سدھارنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اب موجودہ حکومت کو اپنے عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنا ہے۔ ظاہر ہے حکومت کے پاس جادوئی چھڑی نہیں کہ پلک جھپکتے ہر بدصورت شے خوبصورت بن جائے۔دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں۔مسائل دھیرے دھیرے حل ہوں گے۔سب جانتے ہیں آئی ایم ایف کی شرائط میں جکڑے ملک میں حکومت کے پاس اپنی مرضی سے پالیسی بنانے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔بیشتر شرائط کے جواب میں ہاں کہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔شنید ہے کہ چین حکومت کو ے مالی ریلیف فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر جانے والے ہیں،مشکل وقت میں سعودی عرب بھی مدد کرتا رہا ہے، توقع کی جانی چاہئے سعودی عرب اب بھی ماضی کی طرح مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔لیکن عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال بھی جواب چاہتا ہے کہ جس ملک کے پاس اتنے وسائل ہوں،ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل ساحل،خوبصورت اور دلکش مناظر، دنیا کا دوسرے نمبر پر غروب آفتاب کا خوبصورت ترین منظر گوادر سے 90کلومیٹر کے فاصلے پرجیونی کے مقام پر واقع ہے۔ آبی دولت سے مالامال وسیع سمندر، سونے، چاندی اور تانبے سمیت قیمتی دھاتوں کے بڑے ذخائر،لاکھوں ایکٹر اراضی، جفاکش اور محنتی افرادی قوت، ذہین اور باصلاحیت نوجوان نسل کے علاوہ ہر قسم کے پھل، سبزیاں، دالیں اوراناج اگانے کے لئے چار موسم عطا کئے ہیں۔ان نعمتوں کے باوجود پاکستان کے ہاتھوں میں کشکول کیوں ہے؟وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف دنیا کے سامنے پاکستان کو بھکاری کہنے پر کیوں مجبور ہیں؟ قدرتی وسائل سے استفادہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایسی کون سی رکاوٹ ہے جسے 75برسوں میں دور نہیں کیا جا سکا۔عوام کو تن ڈھانپنے کے لئے مناسب لباس میسر نہیں، بلوچوں کے پیروں تلے سونے چاندی کے ذخائر ہیں مگر وہ ننگے پیر ہیں۔بارشوں سے ملنے والا پانی ذخیرہ نہیں کیا جاتا، پچاس سال تک ڈیم تعمیر نہیں کئے جاتے،ہر سال سیلاب کی شکل میں قدرتی نعمت سمندر برد کر دی جاتی ہے۔عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے ناروا شرائط پر قرضہ پیٹرول، گیس، اور بجلی کے بلوں کی شکل میں عوام کو ادا کرنا پڑتا ہے۔انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مہنگائی کا سارابوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔قرض ایسے منصوبوں پر نہیں خرچ کیا جاتا جن سے ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو،اور قرض کی ادائیگی اس اضافی آمدنی سے ممکن ہو سکے۔عوام کو قرضوں کی ادائیگی نہ کرنا پڑے۔گردشی قرضہ کیا بلا ہے؟ عوام کو سمجھایا جائے! بغیر خریدے بجلی کی قیمت ادا کرنے کے معاہدے کب اور کس نے کئے تھے؟ان ظالمانہ معاہدوں سے بے بس عوام کی جان کب چھوٹے گی؟یہ معاہدے کرنے والے آج کی کابینہ میں بیٹھے ہیں، جھنڈا لگی گاڑی میں سفر کرتے ہیں، شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ درج بالا سوالات کا جواب کون دے گا؟عوام اس جواب کا 75برسوں سے انتظار کر رہے ہیں؛ آخر صبر کی بھی حد ہوگی،یاد رہے کبھی تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگا،کیا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے درج بالا سوالات جواب دے دیا جائے تو سب محفوظ رہیں گے، ورنہ تاریخ ایک دن جواب ضرور لیتی ہے۔


