برکت بلوچ کو جلد بازیاب کیا جائے، بصورت دیگر شدید احتجاج ہوگا، بی ایس او
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ مسئلے کو سمجھے بغیر طاقت کے استعمال سے بلوچوں کو سیاسی طور پر ہمیشہ دیوار سے لگا کر انتہا کی جانب دکھیلا گیا اور انسانی حقوق شہری مسائل، طبقاتی تقسیم و دیگر مسائل کا شکار بنا کر اصل سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی جسکے اثرات موجودہ دور میں سامنے آرہے ہیں۔ بلوچ سیاسی کارکنوں نے ہمیشہ سیاسی مسئلے کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی تجویز پیش کی ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق و دیگر مسائل کو اس وقت حل کیا جاسکتا ہے جب سیاسی آواز کو سمجھنے کی کوشش کی جائے سیاسی کارکنوں کو انتہا تک پہنچانے کا ذمہ دار وہ قوتیں ہیں جو سیاسی عمل کو روکنے کیلئے طلبہ کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں، بلوچ معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کیلئے دشمن عناصر کو آگے لاکر ہر قسم کی سماجی برائیوں کی چھوٹ دی جاتی ہے، اس وقت تعلیمی اداروں میں بزور طاقت بلوچ طلبہ تنظیموں کے سرکلنگ و بحث و مباحثے پر قدغن لگائی گئی ہے جس کے تباہ کن نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو مجموعی طور پر اسکی ذمہ داری پوری بلوچ قوم پر ڈال کر پوری قوم کیخلاف اجتماعی سزا کا ایک سلسلہ شروع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو جبراً لاپتہ کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے، بلوچوں کو انکے تاریخی سیاسی جدوجہد سے کسی صورت دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ایس او پرُامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی ایک سیاسی تنظیم ہے، پرُامن جدوجہد کے ذریعے شعور و آگاہی اور پرُامن عمل کو ہی جدوجہد میں اہم جز سمجھتی ہے۔ 2 فروری کو ریاستی اداروں نے چادر و چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے تنظیم کے جونیئر جوائنٹ سیکرٹری عاطف بلوچ کے بھائی برکت بلوچ کو گھر سے جبراً لاپتہ کیا جو کہ تاحال لاپتہ ہے جبکہ یہ سلسلہ پنجاب و دیگر صوبوں کے تعلیمی اداروں سمیت بلوچستان بھر میں زور و شور سے جاری ہے اگر برکت بلوچ سمیت کسی بھی بلوچ طالب علم پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے قانونی طور پر سزا دی جائے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر برکت بلوچ کو جلد بازیاب نہیں کیا گیا تو شدید احتجاج کرینگے۔


