رضا باقر کے دور میں مہنگائی مرکزی بینک کیلئے بڑا سردرد رہی
ڈاکٹر رضا باقر نے مرکزی بینک میں اپنی مدت کے دوران متعدد نئے اقدامات کا آغاز کیا جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کووڈ رسپانس پیکجز، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ جو اوورسیز پاکستانیوں کو مقامی بینکوں سے جوڑتا ہے، راست فوری اور فری ادائیگی سسٹم اور ڈیجیٹل بینکنگ پالیسی کو حتمی شکل دینا شامل ہے جس سے ڈیجیٹل بینکوں کے لیے راہ ہموار ہوئی۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تاہم مرکزی بینک کا اہم مقصد مقامی سطح پر قیمتوں میں استحکام اور مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے جو کہ ڈاکٹر رضا باقر کے دور میں ایس بی پی کے قابو میں نہ رہا، کورونا کا دورانیہ اس میں شامل نہیں ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق اپریل میں مہنگائی بڑھ کر 13.4 فیصد ہوگئی جو کہ جنوری 2020 کے بعد سے اب تک کی بلند سطح ہے، اُس وقت مہنگائی 14.6 فیصد تھی جس کی وجہ جلد خراب ہونے والی اور دیر سے خراب ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں مستقل اضافہ ہے۔جب ڈاکٹر رضا باقر نے مئی 2019 میں عہدہ سنبھالا اس وقت ماہانہ مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد تھی۔


