سریاب روڈ کی توسیع کا منصوبہ تاجروں کے ساتھ ظلم ہے،انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ:انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا، عمران ترین، حاجی نصرالدین کاکڑ، یعقوب شاہ کاکڑ، ولی افغان، حاجی ظہور کاکڑ میر رحیم بنگلزئی، ملک بہادر ملیزء، طاہر جدون، خان کاکڑ، حاجی بشیر بنگلزئی، محمد جان آغا، طاہر جدون، منظور ترین، حسن خلجی، شفیع آغا، نعمت ترین، امردین آغا، بسم اللہ، فیض محمد داوی، غنی آغا اور دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کمشنر کوئٹہ کی جانب سے سڑکوں کی توسیع کے اجلاس میں تاجروں کو نمائندگی نہ دینے پر شدید تحفظات ہیں سریاب روڈ کی توسیع کا منصوبہ تاجروں کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ایک پہاڑ کے دامن میں بھی 690 روپے سکوائر فٹ نہیں ملتا اور میں سریاب روڈ جوکہ اس وقت بیس سے تیس ہزار روپیہ فی سکوائر فٹ قیمت ہے اسے 690 روپے فٹ ریٹ مقرر کیا گیا ہے جوکہ ظلم کی انتہا ہے اور اسے ہم کسی صورت قبول نہیں کرینگے اور نہ ہم وزیر اعلیٰ کے دباؤ میں آئینگے اور نہ کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر سریاب کیجانب سے تاجروں کو نوٹس جاری کرنے اور انہیں دھمکانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کہا ہے کہ اگر اسسٹنٹ کمشنر تاجروں کے ساتھ زور زبردستی کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنے نفع نقصان کا ذمہ دار ہوگا اور ہم اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے اور اس سلسلے میں ہم متاثرین سریاب روڈ کا اجلاس طلب کرینگے اور قومی شاہراہوں کو بند کرنے اور صوبہ بھر میں احتجاج کرنے پر غور کرینگے۔ بیان میں کہا ہے کہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناقابل قبول ہے اور کہا ہے کہ یہ اضافہ سندھ اور پنجاب کے فارموں کیجانب سے کیا گیا ہے اور کوئٹہ میں پولٹری فارم مالکان اسی قیمت خرید کے تناظر میں فروخت کرتے ہیں اور برعکس اسکے ضلعی انتظامیہ کا پولٹری فارم مالکان کو گرفتار کرنا قابل افسوس اور بے جا عمل ہے اور کہا ہے کہ حکومت جانوروں میں لمپی وائرس کے ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنانے اور ہر ضلع میں ویکسین سینٹر قائم کریں تاکہ لوگ اپنے جانوروں کو ویکسین کراسکے اور اس مہلک وائرس کی روک تھام ہوسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں