بجٹ میں کمی سے جامعات کے معاملات چلانا مشکل ہو جائیگا، فپواسا

کوئٹہ:فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا)کی گورنمنٹ کی حالیہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ سے متعلقہ فیصلہ پر ورچول میٹنگ آج دن گیارہ بجے ہوئی۔ جس میں فپواسا کے مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر جمیل چترالی، نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد ریاض،صدر پنجاب چیپٹر پروفیسر ڈاکٹر اظہر نعیم،ممبر اگزیکٹو ڈاکٹر جاوید ڈوگرپروفیسر ڈاکٹر اختیار علی گھمرو،صدر واسلام باد چیپٹر ڈاکٹر جابر سید کے علاوہ صوبائی کابینہ کے ممبران نے شرکت کیفپواسا نے گورنمنٹ کے ہائر ایجوکیشن کے 54بجٹ کی کٹوتی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔فیڈریشن نے مقف اختیار کیا کہ بجٹ میں اتنی بڑی کمی سے جامعات کے معاملات کو چلانا مشکل ہو جائے گاگورنمنٹ کی جامعات عمومی طور پر غریب غربا بچوں کے لیے رعایتی فیس پر پڑھوانے کا ایک ذریعہ ہیں۔جامعات کے فنڈز میں کمی غربا کو تعلیم سے روکنے کے مترادف ہے فیڈریشن نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنمنٹ کو ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی کے نقصانات سے باور کروانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جائیں گے فیڈریشن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر کورنمنٹ اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی تو جامعات کے اساتذہ، ملازمین و طلبا ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ پاکستان کی تمام جامعات کی نمائندہ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز کا آن لائن اجلاس کل 11بجے دن دوبارہ ہوگا جس میں گورنمنٹ کے فیصلہ کے خلاف تحریک چلانے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں