کوہلو، اسپورٹس اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام فنڈ ریلیز نہ ہونے پر تاخیر کا شکار

کوہلو (انتخاب نیوز) ضلع کوہلو کو پہلی دفعہ اسپورٹس اسٹیڈیم خطیر رقم سے بننے جارہا تھا، لیکن صوبائی حکومت انکو فنڈز ریلیز نہیں کررہا، جس سے میگا اسکیم بننے میں رکاوٹ بن رہا ہے، کئی مرتبہ قدرتی آفات سے انکی دیواریں گرگئیں۔ حکام بالا فوری نوٹس لے کر متعلقہ محکمہ اور ٹھیکیدار کو پابند بنایا جائے۔ بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع کوہلو میں بھی صوبائی حکومت کی جانب سے اسپورٹس اسٹیڈیم 26 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونا تھا مگر ٹھیکیدار کے مطابق فنڈ ریلیز نہ ہونے کے وجہ سے کام سست روی کا شکار ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جام کمال کے جانے کے بعد اسپورٹس اسکیمات پر پابندی لگائی گئی تھی، نو مہینوں کے بعد اس سکیم سے پابندی اٹھائی گئی لیکن 30 جون نزدیک ہونے کے وجہ سے ایک بار پھر انکی رقم سرینڈر ہوگئی۔ دوسالہ اسکیم اب مزید پتہ نہیں کتنے سال تک جاری رہے گی۔ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری سے اپیل کی کہ فوری سست روی کا شکار اسٹیڈیم کے کام کا نوٹس لے کر محکمہ بی اینڈ آر کو پابند کیا جائے کہ مذکورہ کام معیار اور ٹائم کے مطابق مکمل کیا جائے، بصورت دیگر عوام کے ٹیکسوں کی رقم کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے سپورٹس مین احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں