صوبائی خودمختاری کی وہ بحث، جو 18ویں ترمیم سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی ، ثناءبلوچ

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)1973 کے آئین میں قانون سازی کی مشترکہ فہرست ایک عبوری انتظام کے طور پر شامل کی گئی تھی، جسے دس برس بعد، یعنی 1983 تک، ختم ہونا تھا۔ مگر مارشل لا، غیر جمہوری ادوار اور بعد ازاں کمزور و غیر سنجیدہ جمہوری حکومتوں کے باعث یہ معاملہ نہ صرف مو¿خر ہوتا رہا بلکہ پارلیمان میں کبھی اس سنجیدگی سے زیرِ بحث ہی نہ آ سکا جس کا وہ مستحق تھا۔2004 میں، پہلی مرتبہ میں نے سینیٹ آف پاکستان میں ایک آئینی ترمیمی بل پیش کیا جس کا مقصد کو ختم کرکے اس کے اختیارات صوبائی قانون سازی کے دائرے میں منتقل کرنا تھا۔یہ وہ دور تھا جب بلوچستان اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی تنازعہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ اس وقت وسیم سجاد صاحب سینیٹ میں قائدِ ایوان تھے۔ "بلوچستان کا ایک اکلوتا کم عمر سینیٹر آدھا آئین صوبوں کو دینا چاہتا ہے۔”بل بالآخر اکثریت نے مسترد کر دیا۔مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ پارلیمانی شکست ہمیشہ سیاسی شکست نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک مسترد شدہ بل آنے والے آئینی ارتقا کی بنیاد رکھتا ہے۔آج، دو دہائیاں بعد، پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ 2004 میں اٹھایا گیا یہ سوال محض ایک ترمیمی بل نہیں تھا؛ یہ دراصل اسی بنیادی آئینی سوال کا ابتدائی اظہار تھا جو بعد میں 18ویں آئینی ترمیم کی صورت میں قومی سطح پر سامنے آیا۔پاکستان کا وفاق مرکز کی طاقت سے مضبوط ہوگا یا صوبوں کے آئینی اختیار سے؟بلوچستان میں 2002 سے 2009 تک جاری سیاسی حالات، مرکز اور صوبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، وسائل، نمائندگی، اختیارات اور وفاقی ڈھانچے سے متعلق سوالات نے بالآخر پاکستان کو اس بحث تک پہنچایا جس کا ایک اہم آئینی جواب 18ویں ترمیم تھی۔آج ایک نوجوان نے 2004 میں اس بل کے بارے میں شائع ہونے والی یہ خبر دوبارہ نکال کر بھیجی ہے۔ تاریخ کبھی کبھی پرانی دستاویزات کے ذریعے یاد دلاتی ہے کہ کچھ خیالات اپنے وقت سے پہلے ہوتے ہیںاور کچھ سوالات تب تک زندہ رہتے ہیں جب تک آئین ان کا جواب نہ دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں