پاکستان گرے لسٹ میں رہیگا یا نہیں، ایف اے ٹی ایف دورے کے بعد فیصلہ کریگا

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے تمام اہداف مکمل کرلیے ہیں جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کی ٹیم مستقبل میں پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے اس بات کا تعین کرے گی کہ پاکستان نے سفارشات پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی مد میں اصلاحات کی ہیں اور پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات مستقبل میں نافذ العمل رہ پائیں گے یا نہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کو 2018ء میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ بنایا گیا تھا اور مارچ 2022ء میں ہونے والے نظرثانی اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ’سفارشات کی تکمیل میں خاصی پیشرفت کی ہے‘ تاہم چند نکات پر مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی سنہ 2018 میں دی گئی تمام 27 سفارشات پر عملدرآمد کر چکا ہے جبکہ سنہ 2021 میں ایف اے ٹی ایف کی ذیلی شاخ ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی جانب سے دیے گئے سات نکات میں سے چھ کو قبل از وقت مکمل کر چکا ہے۔ یہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف کے 13 جون سے 17 جون تک جاری رہنے والے ایک پلینری اجلاس میں ہوا جس کی میزبانی برلِن کر رہا تھا اور اس اجلاس میں 206 ممبر ممالک کے نمائندے شریک تھے۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک، اقوامِ متحدہ اور اگمونٹ گروپ آف فنانشل یونٹس بھی اس اجلاس میں بطور مبصر شامل تھے۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیرِ مملکت برائے خارجہ اْمور حنا ربانی کھر کر رہی تھیں جو فی الحال جرمنی کے شہر برلِن میں موجود ہیں۔ اپنے دورے کے دوران انھوں نے موجودہ اور سابقہ ایف اے ٹی ایف کے نمائندگان اور سربراہان سے ملاقاتیں کی ہیں۔ 2020ء میں منی لانڈرنگ کیخلاف پاکستان نے قانون میں ترمیم بھی کی تھی تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے لیکن وفاقی حکومت کے ترجمان کے مطابق 2021ء کے ریویو میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کیخلاف قانونی کارروائی اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں پیشرفت کی مزید مثالیں سامنے لانے کو کہا گیا تھا۔ تاہم وفاقی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ حالانکہ معاملات پاکستان کے حق میں جاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ اس اجلاس میں دیگر ممالک بھی ہوتے ہیں جن کی رضامندی اور تسلی بھی معنی خیز ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں