موجودہ حکومت نے بجٹ میں معاشی اور اقتصادی ترقی کا آغاز کردیا، صوبائی وزیر خزانہ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی وزیر خزانہ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے بجٹ میں معاشی اور اقتصادی ترقی کا آغاز کردیا ہے صحت تعلیم اور روزگار اولین ترجیح، بلوچستان میں تقریبا 70 ہزار آسامیاں پڑی ہیں، اگر 35 سے 40 ہزار لوگ بھرتی ہوں بہت بڑی کامیابی ہے،بلوچستان اس وقت 51 ارب روپے کا قرض دار ہے حکومت قرضوں کی کمی کیلئے کاوشیں کررہی ہے جس کا ثبوت بجٹ خسارہ کم کرناہے 15 ارب روپے خسارہ کم کیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کیلئے گردونواح میں ایک ارب روپے کے ڈیم بجٹ میں شامل ہیں، ہماری نوزائیدہ حکومت نے امن و امان کے قیام کیلئے اقدامات کئے ہیں حکومت سنجیدگی کے ساتھ ملازمین کے مسائل حل کررہے ہیں،ہمارے اس بجٹ کے اثرات عوام تک پہنچیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات مفتی سلمان،صوبائی سیکرٹری خزانہ حافظ عبدالباسط، اسپیشل سیکرٹری خزانہ حبیب الرحمن جاموٹ ودیگر کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر خزانہ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت کا چوتھا اور میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے پہلی مرتبہ ہے بغیر کسی احتجاج کے بجٹ پیش ہوااس سے پہلے اسمبلی کے سامنے احتجاج حتی کہ پچھلے سال اسمبلی میں کیا ہوا سب نے دیکھا،کل بجٹ اجلاس میں سردار یارمحمد رند سمیت تمام ارکان ایوان میں موجود تھے میر عبدالقدوس بزنجو تمام ارکان کو عزت احترام دیتے ہیں اسی کا عملی مظاہرہ بجٹ میں کیا، انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی قیادت میں بجٹ میں معاشی اور اقتصادی ترقی کا آغاز کردیا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، صوبائی پی ایس ڈی پی میں منتخب نمائندوں کی تجاویز پر اسکیمات شامل کئے گئے ہیں، 612 ارب 89 کروڑ روپے بجٹ کا مجموعی حجم ہے 191 ارب روپے صوبائی پی ایس ڈی پی کا حجم ہے، 500 ملین کا انٹرن شپ کا پروگرام بجٹ میں شامل ہے، صوبائی وزیر خزانہ نے کہاکہ زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کیلئے گردونواح میں ایک ارب روپے کے ڈیم بجٹ میں شامل ہیں، ہماری نوزائیدہ حکومت نے امن و امان کے قیام کیلئے اقدامات کئے ہیں حکومت سنجیدگی کے ساتھ ملازمین کے مسائل حل کررہے ہیں،ہمارے اس بجٹ کے اثرات عوام تک پہنچیں گے، پچھلے سال 87 ارب روپے تھا خسارہ 72 ارب روپے پر لے آئے ہیں، بجٹ میں کسی رکن اسمبلی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی، پہلے بجٹ میں دوستوں اور ٹھیکداروں کو نوازا جاتا تھا، سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہاکہ بجٹ کی تیاری کیلئے وزیراعلی تین دن تین راتیں نہیں سوئے، جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے 69 ارب روپے مختص کئے ہیں، صحت تعلیم اور روزگار اولین ترجیح، بلوچستان میں تقریبا 70 ہزار آسامیاں پڑی ہیں، اگر 35 سے 40 ہزار لوگ بھرتی ہوں بہت بڑی کامیابی ہے،بلوچستان اس وقت 51 ارب روپے کا قرض دار ہے حکومت قرضوں کی کمی کیلئے کاوشیں کررہی ہے جس کا ثبوت بجٹ خسارہ کم کرناہے 15 ارب روپے خسارہ کم کیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے انہوں نے کہاکہ عوام خود بڑی ریاست و فورس ہے اپنے لیے کھڑے ہوں، ریاست کے پاس وسائل کم ہے امن و امان کیلئے 48 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں بجٹ میں تاخیر اختلافات کی وجہ سے نہیں ہواہے کابینہ میں کوئی اختلافی بات نہیں ہوئی اگر کوئی ثابت کرے تو میں وزارت اور اسمبلی رکنیت سے استعفی دوں گاسپہ سالار جاگ رہا ہوں تو ماتحت ادارے جاگتے رہتے ہیں میر عبدالقدوس بزنجو تین دن تین راتیں جاگ کر پی ایس ڈی پی پر کام کرتے رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں