2008 ممبئی حملوں میں ملوث قرار دیے گئے ساجد مجید میر کی گرفتاری کی اطلاعات
اسلام آباد (انتخاب نیوز) ممبئی حملوں کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے مفرور ساجد مجید میر کو گرفتار کرلیا، ساجد میر 2008ءمیں ممبئی حملوں کے بعد سے لاپتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ساجد میر امریکی ایف بی آئی کے مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ ساجد میر کے سرپر ایف بی آئی نے 5 ملین ڈالر کا انعام مقرر کررکھا تھا تاہم حکومت نے ملزم ساجد میر کی باضابطہ گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی جمع کرائی گئی رپورٹ میں جس چیز نے ان کے کیس کو مضبوط کیا وہ مقدمات میں مجرم قرار دینا اور کالعدم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے سرکردہ ساجد مجید میر کو سنائی گئی سزا تھی۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر 2008ءکے ممبئی حملوں کی ہدایت دینے والے 44 سالہ ساجد میر کو رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ٹیرر فنانسنگ معاونت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے ساڑھے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان پر 4 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، ذرائع کے مطابق وہ اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہوا کہ اتنے بڑے مقدمے میں عدالتی فیصلے کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوئی، سوائے ایک اخبار میں چھپنے والی انتہائی مختصر رپورٹ کے اور وہ بھی توجہ مبذول نہ کرسکی ان کی گرفتاری جو بظاہر اپریل کے آخر میں ہوئی تھی، کو بھی میڈیا کی نظروں سے دور رکھا گیا تھا۔


