لاپتہ افراد کی بازیابی کمیشن کے بس کاکام نہیں، کچھ کے کلبھوشن یادیو سے رابطے تھے، ریاض پیرزادہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیر زادہ نے کہاہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگی کے واقعات میں کمی آئی ہے کچھ لاپتہ افراد تخریب کاری کے واقعات میں مارے گئے کچھ لاپتہ افراد ایسے بھی ہیں جنہیں باہر پناہ دی گئی ہے،بلوچ قبائلی معاشرے میں کوئی لاپتہ ہو تو ان کی غیرت کامسئلہ بن جاتاہے اگر وجہ بتایاجائے بھی تو انا کا مسئلہ بنادیتے ہیں لاپتہ افراد کے لواحقین سے مذاکرات کیلئے اختیار ملے تو جاؤں گا لاپتہ افراد کی بازیابی کمیشن کے بس کاکام نہیں محکمہ داخلہ،ادارے کرے محکمہ انسانی حقوق کاغذ کی حد تک بڑی وزارت ہے،انسانی حقوق کی خودساختہ وغیر ملکی فنڈڈ تنظیمیں ایک رخ دیکھتی ہیں، ساری ذمہ داری کسی ایک پر نہیں ڈالی جاسکتی، تخریب کاری کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو ریاستی اداروں پر تنقید ہوتی ہے لیکن جب کارروائی ہوتی ہے تب بھی انہی اداروں کو نشانہ بنایاجاتاہے۔بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے باہر بیٹھے لوگوں کو بلا کر مذاکرات کئے جائیں ان خیالات کااظہار نجی ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کی وجہ سے پراکسی وار چل رہی ہے افغانستان کے ڈسٹرب حالات اور ایران بارڈر پر بنائی گئی غیر ملکی تنظیمیں جو پاک ایران تعلقات خراب کررہی ہیں ہمارے کچھ غریب لوگ ملوث ہوتے ہیں وہ ملوث ہوتے ہیں جن کو پیسہ دیاجاتاہے کلبوشن کیس ہے اور پھر کوئٹہ کے واقعات رونما ہوئے ریاستی اداروں پر بڑی تنقید ہوئی کہ آپ کیا کررہے ہیں جب ریاستی ادارے قانونی کارروائی کرتی ہے تو ہمارے لوگ احتجاج کرتے ہیں اور لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھتا ہے،ریاستی ادارے جب کام کرتی ہے تو دنیا میں کسی جگہ کریمنلز کو معاف نہیں کیاجاتا جتنا کچھ ہواہے یہ باہر سے امپورٹ ہواہے ریاض پیرزدہ نے کہاکہ انسانی حقوق کا محکمہ صرف ایک ڈاک کا کام کررہی ہے جتنے بلز ہیں یہ محکمہ داخلہ سے تعلق رکھتی ہے محکمہ دفاع سے تعلق رکھتی ہے تاکہ وہ کسی چیز کا جواب دے سکے،کسی بھی جورائٹ انفریمنٹ ہے وہ طاقت ور کرتاہے طاقت ور کو روکنے کیلئے طاقت چاہیے اس کیلئے صرف کتابی وزارت تو نہیں چاہیے کہ صرف میڈیا نے سوال کرلیاہے انسانی حقوق کا محکمہ کیا کررہی ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اور سنت پر عمل کرکے اپنے اصول اور تعلیم کودیکھیں،دنیا میں جب سب کچھ نئی صدی میں سوشل میڈیا آگیاہے کوئی کسی کو روک نہیں پا رہا اس حوالے سے ہم صرف پرپوز کرتے ہیں صحافیوں کے تحفظ کا بل وغیرہ پیش کی گئی ان بلوں پر محکمہ داخلہ کام کرتی ہے حالانکہ یہ محکمہ انسانی حقوق کا کام ہے،انہوں نے کہاکہ کسی کو جائیداد نہیں مل رہا تو ہمیں خط لکھ دیتاہے حالانکہ یہ سول عدالتوں کاکام ہے ہم میڈیاکی طرز پر شعور پھیلانے کا کام کررہے ہیں،باہر کے ممالک کے مداخلت کرتے ہیں کہ سزائے موت کا قانون ختم کیاجائے ہم نے یورپین دنیا کو بتایاکہ سزائے موت کاقانون ختم کردیتے ہیں لیکن قرآن میں کیسے ترمیم کرے؟ سزائے موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے دیت کا قانون موجود تھا یورپی دنیا میں اگر آپ پر جرم ثابت ہوتاہے تو آپ 25سال سزا کاٹتے ہیں ان کا ایک قانون بن گیا تو وہ ڈٹ جاتے ہیں کہ یہ قانون ہے۔ ہمارے ہاں شرعی قانون میں لچک ہے کافی گنجائش ہوتی ہے کہ آپ سزائے موت سے بچ جائیں پچھلے کئی سالوں میں بہت کم پھانسی دی گئی ہیں،پھانسی کامطالبہ وہ کرتے ہیں جن پر ظلم ہوتاہے جہاں سرعام پھانسی دی جارہی ہے وہاں قانون کی زیادہ خلاف ورزی بھی نہیں ہے ہمارے ہاں عدالتیں،انسانی حقوق وغیرہ ہیں یہ بحث کی باتیں ہیں قانون ہونا چاہیے اس پر عملدرآمد ہوناچاہیے،معاشرے کے بیلنس کیلئے تمام اداروں کو اپنا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ریاض پیر زادہ نے کہاکہ لاپتہ افراد میں کچھ ایسے ہیں جو تخریب کاری کے واقعات میں مارے گئے اوروہ بیچارے انگیج ہوئے ہمسایہ ممالک،کلبوشن وغیرہ نے یا بھاگ گئے یا باہر پناہ دی گئی ہے انسانی حقوق،دفاع،محکمہ داخلہ اور ریاستی ادارے سمیت سب آویئر ہوگئے کہ کیا ہواہے پاکستان کے ساتھ بہت کم ڈس اپیئرنس ہے،ریاض پیرزادہ نے کہاکہ بلوچ ایک قبائلی نظام ہے ایک آدمی جب چلا جاتاہے تووہ قبیلے کی عزت کامسئلہ بن جاتاہے وہ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا جرم تھا یا نہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں پتہ تو ہوں کہ کیوں گیا ہے؟ اگر انہیں بتایاجائے کہ یہ بندہ ملوث تھا تو وہ بھی آنا کا مسئلہ بنا دیتاہے تحفظات لازمی حقیقی ہونگے لیکن میں تحقیقاتی اتھارٹی نہیں اور نہ ہی مینڈیٹ ملاہے کہ میں جا کر مذاکرات کروں میں کلچرل بیگراؤنڈ کا آدمی ہوں،میں اعلیٰ اقدار کی نمائندگی کررہاہوں اگر میں مذاکرات کروں گا تومیں کسی قائد وقانون کے تحت جاؤں گایہ اختیار کسی نے نہیں دیا اگر یہ اختیار ملے کہ آپ وزیر ہے آپ نے ٹھیک کرناہے تو پھر میں جاؤں لوگوں کو پتہ ہوں کہ یہ چیزیں اب ختم کرنی ہے صرف اگر میں دفتر تک محدود ہوں روایتاََ،اخلاقاََ حمایت ہوں،انہوں نے کہاکہ ساری ذمہ داری کسی ایک پر نہیں ڈالی جاسکتی سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ انسانی حقوق کو کوئی پوچھتا بھی نہیں جنہوں نے خودساختہ تنظیمیں غیر ملکی فنڈز سے بنائی ہیں وہ ان کی زبان بولتے ہیں اور وہ زبان ہمارے اوپر لاگو کیاجاتاہے،ہر شہر میں انسانی حقوق کی 18سو تنظیمیں بنی ہوئی ہیں کسی کو کسی سے فنڈز مل رہا تو کسی کو کسی سے،میرے پاس اختیار ہوں تو تمام انسانی تنظیمیں بند کروں،گلوبل سسٹم بن گیاہے کہ حکومت کی کوئی پرواہ نہیں کرتا باہر سے بیٹھ کر یہ سب ناجائز کررہے ہیں،مجھے کوئی گالیاں دینا شروع کردے،کچھ بندے اپنا عمل بھی دیکھیں۔انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کمیشن محکمہ داخلہ کے ماتحت ہیں وفاقی وزیر کو کہاتھاکہ بریفنگ لیں کہ انہوں نے اپنے دور میں لاپتہ افرادکا کیا کیا؟ یہ کام سیکورٹی ادارے کرے کمیشن کیا کرسکتاہے،میری وزارت کاغذی وزارت ہے لیکن کاغذات کی حد تک بڑی ہے۔


