عبدوئی پیر کو باڈر تین دن سے بند ہزاروں افرادپھنس گئے
تمپ (نامہ نگار) عبدوئی پیرکور بارڈر 3دنوں سے بند ہے ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں، بارڈر بندش ہزاروں خاندانوں کوبھوکوں مارنے کی سازش ہے، بارڈر ٹریڈ سے وابستہ لوگوں کاکہناہے کہ فورسز نے 2دن سے عبدوئی پیرکور بارڈربند کیا ہے،ایک مسئلہ ہواہے اس بہانے بارڈر گیٹ بندکیاگیاہے اس بارڈر سے ہزاروں خاندانوں کا رزق وروزی وابستہ ہے، بارڈر بندکرکے نہ لوگوں کو آنے جانے دیاجارہاہے اورنہ ہی ڈیزل سپلائی کی اجازت ہے، جو سراسر ظلم وزیادتی ہے، مکران سمیت دیگر علاقوں سے ہزاروں افراد اس گیٹ سے کاروبارکرکے اپنے بچوں کاپیٹ پالتے ہیں مگر فورسز کی جانب سے یہ گیٹ بندکیاگیا ہے، آخر لوگ کہاں جائیں کیا کریں، ایک طرف بارڈر پر لوگوں کو سہولت دینے کی باتیں کی جاتی ہیں، دوسری طرف طویل اور کھٹن سفرکرکے لوگ بارڈر پرپہنچتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ بارڈربند ہے، بارڈری علاقہ میں کسی قسم کی کوئی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے اب وہاں پر ہزاروں لوگ مشکل میں پھنسے ہیں انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاکہ بارڈر کو فوری کھول کر لوگوں کو سہولت فراہم کی جائے،بصورت دیگرہمارے پاس احتجاج اور سڑکوں پرنکلنے کے سواکوئی راستہ نہیں ہے۔آل پارٹیز کیچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ پاک ایران باڈر عبدوئی کے مقام پر تیل بردار گاڑیوں کو روکاگیاہے، جہاں نہ کھانے کیلئے کوئی چیز دستیاب ہے اور نہ ہی پینے کیلئے کوئی چیز دستیاب ہے جبکہ اس شدید گرمی میں روکے گئے گاڑی مالکان اور انکے ڈرائیوروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں،جہاں انسانی المیہ جنم لے سکتاہے، بارڈر پر تیل بردار گاڑیوں کو روکنا ظلم اور زیادتی ہے، پہلے سے مختلف پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بارڈر پر کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو اس کی سزا غریب ڈرائیوروں کو دینا مثبت رویہ نہیں، بارڈر کاروبار سے وابستہ لوگ پہلے سے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب اعلان کے بعد مزید گاڑیاں بھی بارڈر کی جانب نہیں گئے ہیں، لہٰذا انتظامیہ واداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وہاں روکے گئے تمام گاڑیوں کو فوراً آنے کی اجازت دیں تاکہ وہ جلد اپنے گھروں کو بحفاظت پہنچ سکیں، ان کے خاندانوں کی جانب شدید تشویش کا اظہار کیا جارہاہے اور وہ آل پارٹیز کیچ کے پاس اپنی فریاد لیکر آئے ہیں آل پارٹیز عوام کو تنہاء نہیں چھوڑے گی لہٰذا اگر ڈرائیوروں کو جلد نہیں چھوڑا گیا تو آل پارٹیز کیچ اپنی عوام کے ساتھ مل کر ان کے لیے آواز بلند کرنے کیلئے احتجاج کی طرف جائے گی۔جبکہ تربت سول سوسائٹی کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ گزشتہ دو دنوں سے عبدوئی بارڈر میں تیل بردار گاڑیوں کو روکاگیاہے،شدید گرمی اور بے آب وگیاہ مقام پر سیکورٹی اداروں کی جانب تیل بردار گاڑیوں کو روکنا ظلم اور زیادتی ہے،عبدوئی بارڈر میں ان گاڑیوں کے مزدوروں اور ڈرائیوروں کو کھانے پینے کیلئے کوئی ذریعہ نہیں، اس سے ڈرائیوروں کی زندگیوں کوشدید خطرات لاحق ہیں،سرکار کی جانب ایرانی باڈر گزشتہ دو سالوں سے بندہیں، عوام کیلئے دوسرا کوئی ذریعہ معاش نہیں بلاوجہ تیل بردار گاڑیوں کو روکنا انہیں بھوک اور پیاس سے مارنا ایک دردناک اور سنگین انسانی مسئلہ جنم لینے کا باعث بن سکے گا انہیں بارڈر پر روکنا جہاں نہ کھانے کیلئے کوئی چیزہے اور نہ ہی پینے کیلئے وہاں انہیں روکنا ذہنی وجسمانی طورپر ٹارچر کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عبدوئی باڈر پر روکے گئے تیل بردار گاڑیوں کو فی الفور آنے کی اجازت دیں اور انہیں نہ روکیں، ان کی فیملی شدید تکلیف اور اذیت میں مبتلاء ہیں، اگر انہیں کل تک اجازت نہیں دی گئی توتربت سول سوسائٹی مذکورہ تیل بردار گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں کی فیملی کے ساتھ ملکر احتجاج کرے گی۔


