کورونا، سماجی ومعاشی اثرات اور نقصانات 5تا 6سال تک برداشت کرنے ہونگے، جام کمال

کوئٹہ۔:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کورنا وائرس سے معاشی و سماجی شعبہ پر مرتب ہونے والے اثرات اور نقصانات آئندہ 5تا6 سال تک برداشت کرنے ہونگے معاشی و کاروباری سرگرمیوں کی معطلی سے روزگار کے مواقعوں میں کمی آئے گی جس سے غربت میں بھی اضافہ ہو گا تاہم بہتر معاشی حکمت عملی، ترقیاتی شراکت داروں،ڈونرز اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے معاشی و سماجی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈونرز اور این جی اوز سے روابط کے لیے قائم ریسورس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا کمیٹی کے چیرمین بلال کا کڑ بھی اس موقع پر موجود تھے کمیٹی کے کورآرڈینٹر عمران گچکی کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ڈونرز این جی اوز اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے رابطوں کی پر وگریس رپورٹ پیش کی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ امدادی اداروں کی جانب سے مختلف شعبوں میں استعداد کار میں اضافے زراعت ماہی گیری اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لی معاونت کی فراہمی اور ورلڈفوڈ پرگرام کی جانب سے صوبے کے اضلاع میں راشن کی فراہمی میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے جبکہ بلوچستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں شامل 25 غیر سرکاری تنظمیں عالمی امدادی اداروں کی معاونت کے ساتھ عملی طور پر سرگرم عمل ہیں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ سماجی بہبود کے تحت 1420 این جی اوز رجسٹرڈ ہیں جو چیریٹی ایکٹ کے تحت کام کررہی ہیں تاہم ان میں زیادہ تعداد غیر فعال تنظیموں کی ہے ان تنظیموں کو کوڈ۔19 کے تناظر میں امدادی سرگرمیوں کے لیے این او سی جاری کر دی گئی ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ڈونرز،بین الاقوامی اور ملکی رضا کار اداروں،یورپین یونین،یو این ایجنسیز کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنس کا انعقاد کیا جا ئے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورنا وائرس کے بعد کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کی اہمیت میں اضافہ ہو گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارے پاس ماہی گیر ی زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں معاشی سرمایہ کاری کے بے پناہ امکانات ہیں اور ڈونرز کی معاونت سے ہم مستقبل کے معاشی مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکیں گے(ش ر)


