پروفیسر بلال بازئی کی اغواءنما گرفتاری کی کوشش کی سختی سے مذمت کرتے ہیں ، حکام بالا سختی سے نوٹس لے،صدر بی پی ایل اے

کوئٹہ (ویب ڈیسک)بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی بیان میں گذشتہ دنوں ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کے انفارمیشن ڈائریکٹر پروفیسر بلال بازئی کے ساتھ رونما ہونے والے واقعے کی جس میں معزز ایک استاد کی اغواءنما گرفتاری کی کوشش کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے ہنہ اوڑک تھانے کے بدعنوان اور غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی پی ایل اے کے صدر پروفیسر حمید خان اور عہدہ داروں نے اس بات پر حیرت اور برہمی کا اظہار کیا ہے کہ بار بار شکایات کے باوجود تاحال ان نا اہل اہلکاروں کےخلاف کوئی تادیبی عمل نہ ہونا اور مسلسل کئی گھنٹے ایک قانون پسند اور ذمہ دار شہری اسسٹنٹ ڈائریکٹر کالجز پروفیسر بلال بازئی کو حبس بے جا میں رکھنا اور طرح طرح کی دھمکیاں دینا یقیناً پولیس ڈیپارٹمنٹ کے زوال کی بدترین مثال ہے۔ بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر نے وزیر اعلی بلوچستان ، وزیر داخلہ بلوچستان ، چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس ، وزیر تعلیم اور تمام سول سوسائٹی اراکین سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان پولیس کی اس نارروا اور تہذیب سے گری ہوئی حرکت کا سختی سے نوٹس لیں اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروفیسر بلال بازئی کو حبس بے جا میں رکھ کر باربار رشوت طلب کرنے اور دھکیاں دینے پر پولیس ڈیپارٹمنٹ پر بد نما داغ بننے والے نا اہل پولیس کارندوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں