سرکاری اسامیوں پر غیر مقامی افراد کی بھرتی اور بندر بانٹ قبول نہیں، جھالاوان ایکشن کمیٹی

خضدار (انتخاب نیوز) جھالاوان ایکشن کمیٹی کا ضلع خضدارمیں اقربا پروری۔محکمہ حیوانات،محکمہ صحت اورجھالاوان میڈیکل کالج سمیت دیگر محکموں کے گورنمنٹ ملازمتوں کی بندر بانٹ، جھل مگسی کے حدود میں ضلع خضدار کے ٹرانسپورٹروں سے قبائلی شخصیات کیجانب سے بھتہ خوری،سول ہسپتال خضدار میں ادویات کی عدم فراہمی صفائی کی مخدوش صورتحال،اور ملازمتوں پر معذور و اقلیتی کوٹہ پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف سرآپا احتجاج۔مبینہ نا انصافیوں کا ازالہ نہیں کیا گیا تو سخت ردعمل کا مظاہرہ کرنے کا اعلان۔ جھالاوان ایکشن کمیٹی ضلع خضدار کے صدر صابر حسین قلندرانی، جنرل سیکرٹری مفتی جاوید احمد منصوری۔خواتین ونگ کی سربراہ فرزانہ سحر جاموٹ۔چیئرمین بشیر احمد حلیمی۔سینئر نائب صدر ڈاکٹر حضور بخش زہری،پریس سیکرٹری اقبال کرد اور دیگر نے خضدار پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر بشیر احمد رئیسانی،عبدالسلام مینگل،محمد اسلم کرد،رفیق موسیانی،رضا محمد خدرانی،سمیع اللہ عمرانی،فیصل زہری،ڈاکٹر منیر زہری سمیت جھالاوان ایکشن کمیٹی کے مرد و خواتین ممبران بڑی تعداد میں موجود تھے جھالاوان ایکشن کمیٹی کے قائدین کا کہنا تھا کہ خضدار میں اقربا گیوری زور و شعور سے جاری ہے اور اس کا سب سے پہلا نشانہ بے روزگار نوجوان بن رہے ہیں ابتداء جھالاوان میڈیکل کالج کے اسامیوں سے شروع کی گئی جہاں میرٹ کے برخلاف لوگوں کو تعینات کر کے بے روزگار نوجوانوں کی حق تلفی کی گئی ہم نے احتجاج کیا پرنسپل سے ملاقات کر کے انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کیا مگر تا حال کوئی شنوائی نہیں ہوئی خضدار کے بے روزگاروں کو محکمہ حیوانات میں نشانہ بنایا گیا محکمہ حیوانات کے تمام اسامیوں پر غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کر کے بے روزگار نوجوانوں کی حق تلفی کی گئی اس مسئلے پر ہم نے کمشنر قلات ڈویڑن کو صورتحال سے آگاہ کیا انہوں نے متعلق محکمہ کے آفسران بالا کو تحریری طور پر ہماری شکایات کے متعلق لکھا مگر افسوس کمشنر قلات ڈویڑن کے لکھنے کے باوجود محکمہ حیوانات احکام خضدار کے بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا ازالہ نہیں کیا اسی طرح تیسری بار سابق ڈی ایچ او خضدار نے خضدار کے بے روزگار نوجوانوں کے حق پر شب خون مار کر خالی اسامیوں پر اپنی رشتہ داروں کو تعینات کیا جبکہ کچھ اسامیوں پر کچھ لو کچھ دو کر کے تعیناتیاں کی گئیں،رہی سہی کسر محکمہ فشریز میں پورا کر دیا گیا اور ان تمام محکموں میں تعیناتیوں میں جہاں بے روزگار نوجوانوں کی حق تلفی کی گئی وہی معذور اور اقلیتی کوٹہ پر عمل درآمد نہ کر کے ان کے حق پر بھی ڈاکا ڈالا کیا،سوچھنے سمجھنے کی بات ہے کہ یہی بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو نوجوانوں کو روزگار کو موقع فراہم نہ کرنے اور ان کے حق تلفی کرنے کی پاداش میں نوجوان پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں خضدار کے بے روزگاروں کو جان بوجھ کر مایوسی کا شکار بنایا جا رہا ہے ان تمام محکموں میں نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے نا انصافیوں میں یہاں سے منتخب عوامی نمائندوں کو بھی بڑا ہاتھ ہے ہم کسی بھی شخصیت و سیاسی جماعت کے خلاف نہیں مگر جہاں بے روزگار نوجوانوں اور عوام الناس کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کی جائے گی وہاں جھالاوان ایکشن کمیٹی سامنے روکاٹ بنیں گی اور ہماری جدو جہد حقوق کے حصول تک جاری رہے گی گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال خضدار کہنے کے حد تک تو ٹیچنگ ہسپتال ہے مگر اس میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں،ادویات کا کوٹہ نا کافی ہے اور سب سے بڑی ظلم کی بات یہ ہے کہ خاکروپوں کی اکثریت مسلمان ہیں جو صفائی نہیں کرتے جس کے باعث ہسپتال میں صفائی کی صورتحال ابتر ہے جھالاوا ن ایکشن کمیٹی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہاں کے ٹرانسپورٹروں کے زریعے یہ شکایت ملی ہے کہ خضدار سے اندرون سندھ،پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں کو جانے والی ٹرانسپورٹ سے جھل مگسی کے حدود میں ایک قبائلی شخصیت بھتہ وصول کرتا ہے اور اگر انہیں مبینہ طور پر بھتہ نہیں دی جاتی تو وہ ٹرانسپورٹروں کی گاڑیاں روکھتے ہیں،توڑتے ہیں،اور اغواء کرتے ہیں ابھی بھی خضدار کے ٹرانسپورٹروں کی چھ سے زاہد گاڑیاں متعلقہ شخصیات کے کارندوں نے اغواء کر لیا ہے جھالاوان ایکشن کمیٹی یہ وضاحت کرنا چاہتی ہے کہ ہم ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ہونے والے نا انصافی پر خاموش تماشاہی نہیں بنیں گے اگر خضدار کے ٹرانسپورٹروں کو سندھ یا اندرون پنجاب و ملک کے دیگر علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں تو ہم مگسی قبائل کے گاڑیوں کو بھی خضدار آنے نہیں دینگے صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خضدار کے ٹرانسپورٹروں سے بھتہ لینے والے عناصر کو روکھیں اور انہیں گاڑیوں کے اغواء سے باز رکھیں بصورت دیگر حالات خراب ہونے کے زمہ دار صوبائی حکومت ہو گی جھالاوان ایکشن کمیٹی کے رہنماوں کو کہنا تھا کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق پیر کے روز ہماری احتجاجی ریلی و سول سیکرٹریٹ کا گھیراو کرنے کا پروگرام تھا مگر کمشنر قلات ڈویڑن اور ایڈیشنل کمشنر خضدار کے ساتھ بمورخہ19 جولائی کے مزاکرات اور مسائل کے حل کی یقین دھانی کے بعد ہم نے اپنا احتجاج ایک ہفتے کے لئے موخر کر دیا ہے اگر ایک ہفتے کے دوران ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ہم سخت ترین احتجاج کی جانب بڑھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں