بجلی کے بلوں میں جبری سیل ٹیکس فکس کرنے کا قانون واپس لیا جائے، انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کے پریس ریلیز میں وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں جبرن سیل ٹیکس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے بلوں کے ذریعے جبری سیل ٹیکس فکس کرنے کا قانون واپس لے،سیل ٹیکس صرف امپورٹرز اور مینوفیکچررز نے ادا کرنا ہے ریٹیلر سیل ٹیکس لگا ہوئی اشیاء فروخت کرتے ہیں تاجر فکس سیل ٹیکس والی بجلی کا بل کسی صورت جمع نہیں کرائیں گے اور اگر بجلی کاٹنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت اور ملک میں شٹر ڈاؤن کا اعلان کر دیں گے،مرکزی انجمن بلوچستان (رجسٹرڈ)کے بیان میں کہا گیا کہ ایف بی آر تاجروں کو حکومت سے لڑوانے کا شوق پورا کرلے حکومت کی طرف سے جو تین سے 10 ہزار روپے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے حقیقت میں یہ تاجروں کا معاشی قتل ہے اس طرح کے فیصلے کو کسی صورت تاجر برادری قبول نہیں کر ے گی اور اگر زور زبردستی ٹیکس مسلط کیا گیا تو مذمت کریں گے اور احتجاج کا راستہ اختیار کرینگے حکومت تاجروں کو لوٹنے کا پروگرام بنا چکی ہے ملک بھر کے تاجروں نے ظالمانہ ٹیکس کے خلاف اور تاجردشمن فیصلوں کے خلاف روڈوں پر نکل کر سخت سے سخت احتجاج احتجاجی مظاہرے اور پورے ملک کی طرح صوبے میں احتجاج مظاہرہ ہڑتال کرینگے،اس سلسلے آج بروز منگل 4بجے پرس کلب کوئٹہ کے سامنے بجلی کے بلوں کے ذریعے جبری سیل ٹیکس فکس کرنے کا قانون ختم کرنے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا کوئٹہ کے تمام تاجروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس احتجاجی مظاہرہ میں بھر پور شرکت کرکے تاجر برادری کا نمائندگی کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں