حکومتی عدم توجہ سے دکی میں ہیضے کی وبا بے قابو، ہزاروں کیسز رپورٹ

دکی (انتخاب نیوز) عید سے چند روز قبل ہیضے کی وبا پھوٹنے کے بعد سے اب تک اس وبا کو کنٹرول نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی محکمہ صحت نے کوئی ایکشن لیا ہے۔ عید سے چند روز قبل شروع ہونے والی اس وبا میں مبتلا ہونیوالے اب تک ہزار سے زائد کیسیز جبکہ اس ہفتے بھی دو سو سے زائد کیسز سول ہسپتال دکی میں رپورٹ کئے گئے۔ ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر جوہر خان شادوزئی نے میڈیا کو بتایا کہ اس وبا کو ڈائریا کا نام دے رہے ہیں اسے ہیضے کا نام اسلئے نہیں دے سکتے کیونکہ ہمارے ضلع سمیت قریبی اضلاع میں ہیضے کا ٹیسٹ کروانے کی سہولت موجود نہیں ہے اسلئے ہم نے اس وبا کو فی الحال ہیضے کی بجائے ڈائریا کا نام دیا ہے۔ انہوں نے کہا اس بیماری میں مریض کو قئے دست سمیت تیز بخار بھی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ ہمارے ساتھ سول ہسپتال دکی میں کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں ہے اور سٹاف کی کمی اور میڈیسن کی کمی کے باوجود ایمرجنسی مریضوں سمیت اس وبا کے ہزاروں مریضوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمارے مارننگ، ایوننگ اور نائٹ سٹاف پوری ایمانداری کیساتھ عوام کو علاج معالجے کیلئے کوشاں ہیں اور کم وسائل میں بخوبی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کیسز سول ہسپتال دکی میں رپورٹ ہونے سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہزاروں ایسے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس پر علاج کروانے بھی گئے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وبا زیادہ تر برساتی پانی فلڈ کیوجہ سے پھیلتی ہے لیکن کئی بار گرمی اور خوراک کے باعث بھی ایسے وبا پھیلتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں