بلوچ لاپتہ افراد کے حوالے سے جاری احتجاج میں شدت لائیں گے، سمی دین بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) زیارت واقعے کیخلاف کوئٹہ ریڈ زون میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، بی این پی، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر کی تنظیموں کی جانب سے دیے گئے دھرنے کو 9 دن ہوگئے۔ مظاہرین کی جانب سے آج گورنر ہاؤس تک ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔ اس حوالے سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سمی دین بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ مظاہرین گزشتہ 9 دن سے گورنر ہاؤس کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین دھرنا دئیے بیٹھے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی بات کرنے نہیں آیا، لہٰذا لواحقین نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے جس کے تحت پہلا اقدام کوئٹہ ہائی وے بلاک کرنا ہے۔ اس حوالے سے تمام طبقہ فکر کے لوگوں سے درخواست ہی کہ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے جاری احتجاج میں ہمارا ساتھ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں