برسوں سے قید لوگوں کو مار نا بزدلی ہے، ملک میں ظلم کا نظام ہے، سراج الحق
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے دیے گئے دھرنے میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسلسل لاپتہ افراد کے حوالے سے فکر مندی ہے، لاپتہ افراد کے مسئلے کو پاکستان کیلئے بہت بڑا المیہ سمجھتے ہیں، یہ صرف بلوچستان ہی کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور ہر پلیٹ فارم پر بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ لوگ دس دس سال سے لاپتہ ہیں،ایک کمیشن بنا تھا جس کا سربراہ ایک غیر ذمے دار شخص تھا اور ایسے لگتا تھا جیسے ان کے دل میں ایک پتھر ہے، لوگ انصاف کی بات کرتے ہیں جو لوگ لاپتہ ہوئے ہیں، ریاست کے پاس اگر کوئی ثبوت ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ زیارت واقعے میں جو لوگ مارے گئے ان کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنایا جائے اور لواحقین کو انصاف دیا جائے۔ اپنی قید میں رکھے لوگوں کو مارنا بزدلی ہے۔ یہ کہاں جائز ہے جو لوگ آٹھ، دس سال سے قید ہیں انہیں مار کر اپنا غصہ ٹھنڈا کیا جائے۔ یہ ملک میں ظلم کا نظام ہے، عدالتوں میں انصاف نہیں ہے، ایوانوں میں اسمبلیوں میں قانون سازی نہیں ہے۔


