بیلہ میں گرانفروشوں کی منافع خوری پرائس کنٹرول کمیٹی پر سوالیہ نشان
بیلہ (انتخاب نیوز) خوردنی اشیا کی من مانی اور گراں قیمتوں پر فروخت ڈیلرز نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری شروع کردی انتظامیہ خاموش پرائس کنٹرول کمیٹی کا کردار سوالیہ نشان بن گیا غریب عوام کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تفصیل کے مطابق بیلا میں اشیا خورد و نوش من مانی قیمتوں پر کھلے عام فروخت ہورہی ہیں ڈیلروں اور دکانداروں نے اپنی سکھا شاہی قائم کر رکھی ہے اور ان سے پوچھنے والا بھی کوئی نہیں آن لائن کے مارکیٹ سروے کے مطابق چینی 100روپے کلو آٹھ سو گرام گھی 430 روپے دال مسور 320 روپے کلو دال مونگ 200 روپے کلو گھی پانچ کلو 2300 روپے دال ماش بغیر چھلکا 280 روپے کلو ایک کلو گھی 450 روپے آٹا سیون اسٹار 3300 روپے فی کٹہ جبکہ مختلف درجات کے چاول مصافحہ جات چائے پتی ڈٹرجینٹ پاوڈرز سمیت دیگر اشیائے ضروریات منہ مانگے اور من مانے نرخوں پر فروخت کرکے ڈیلرز اور دکاندار سیلاب زدہ لٹے پٹے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں انتظامیہ کا کردار سوالیہ نشان بن گیا ہے صارفین اور عوامی حلقوں نے ڈیلرز اور دکانداروں کی من مانیوں اور خوساختہ مہنگائی اور انتظامیہ کی چشم پوشی کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیلرز اور دکانداروں کی لوٹ کھسوٹ اور گرانفروشی روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔


