کوئٹہ، 5 روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کی حالت بگڑ گئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن آئینی بلوچستان اساتذہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال پانچویں روزبھی جاری رہی۔ قائدین حاجی مجیب اللہ غرشین،محمد نعیم کاکڑ،منظور راہی بلوچ،عنایت اللہ کاکڑ،ناصر مینگل،سعید ناصر،قاسم اچکزئی اور میر احمد بنگلزئی شدید گرمی کی وجہ سے حالت بگڑگئی،مسلسل سردار اور چکر آرہے ہیں اور جسمانی کمزوری س قائدین نڈال،بے ہوش،اور غشی کے دورے،میڈیکل کیمپ آکر طبی امداد دی،جبکہ میر احمد بنگلزئی کو تشویشناک حال میں ہسپتال منتقل کردیا گیا تادم مرگ بھوک ہڑتال کیمپ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اساتزہ کے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات جن کے باقاعدہ منٹس بھی جاری ہوچکے ہیں پر عملدرآمد کیلئے جمہوری انداز میں 18جولائی سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری رہا اور 3اگست سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر مجبور ہوئے ہیں بد قسمتی سے حکومتی بے حسی اور ہٹ دھرمی روایتی طور پر برقرار ہے اور دوسری جانب اساتذہ طلباء وتعلیم دشمن بیوروکریٹس خصوصی سیکرٹری قانون اور سیکرٹری ایس اینڈ جیڈیاے کی غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی سے معاماران قوم انتہائی سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر 9اگست تک اساتذہ اپگریڈیشن کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا تو 10اگست کوہونے والے اجلاس کے موقع پر صوبہ بھر سے اساتذہ کوئٹہ پہنچ کر بلوچستان اسمبلی کاگھیراؤ کر کے دھرنادیا جائے گا اس دوران تمام تر صورتحال کا ذمہ داری حکومت بلوچستان ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں