کوہلو میں اتائی خواتین ڈاکٹر زندگیوں سے کھیلنے لگیں، عوامی حلقوں میں تشویش
کوہلو (انتخاب نیوز) کوہلو میں اتائی لیڈی ڈاکٹروں کی بھرمار، آئے روز نت نئے چہرے، نام نہاد ڈگریاں لیے میڈیکل فیلڈ میں خود کو ڈاکٹر ظاہر کرکے زچہ و بچہ کی زندگیوں سے کھیلنے لگیں۔ اعداد و شمار کے مطابق کوہلو میں درجن سے زائد اتائی لیڈی ڈاکٹر اس وقت علاج معالجے کے نام پر نہ صرف غریبوں کو بے دردی سے لوٹ رہی ہیں بلکہ غلط علاج کے ذریعے زندگیاں بھی چھین رہی ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ چار سے پانچ ایسی لیڈی ڈاکٹرز ہیں جنکے پاس ڈگریاں جعلی ہیں اور کچھ کی جگہ پر دوسروں نے پیپر دے کر ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں، جن کو نسخے لکھنے تک نہیں آتے اور وہ اب تک کئی ماؤں اور بچوں کو ابدی نیند سلا چکی ہیں۔ ایک میڈیکل آفیسر نے نام نہ بتانے پر بتایا کہ انکے پاس ڈی ایل سی کرنے کا اختیارات ہی نہیں اور انکے کلینکس رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں مگر کوہلو میں یہ اندھیر نگری چوپٹ راج کا نظام قائم ہے اور بلا خوف و خطر دیدہ دلیری سے کام کررہی ہیں جنکے مطابق انھیں مقامی افسران کی سپورٹ حاصل ہے۔ عوامی حلقوں نے کوہلو کے مسیحا وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری، چیف سیکرٹری بلوچستان اور کمشنر سبی ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ ان پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا جائے اور اس کالے دھندے میں ملوث نام نہاد اتائی لیڈی ڈاکٹروں کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔


