بلوچستان میں قبرستان آباد، ہسپتالوں کو مسخ شدہ لاشوں سے بھردیا گیاہے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ :نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ خاران میں رونما ہونے والے واقعہ کو پانچ دن گزرگئے تاحال نہ کوئی انکوائری کمیٹی بنائی گئی نہ کوئی تحقیقاتی کمیشن بنائی گئی واقعہ میں حاجی ثنا اللہ شاہوانی کے دو جوانسال بیٹے مارے گئے بلوچستان اسمبلی میں چونکہ اپوزیشن نام کی کوئی چیز نہیں اسٹریٹ لیئے اتنے اہم مسئلہ پر بھی ایک تقریر جھاڑ کر معاملہ کو رفع دفع کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہیے۔ پارٹی بیان میں واضح کی گئی ہے کہ ایف سی اور سی ٹی ڈی پولیس مافیا بن کر بلوچستان میں نہتے عوام کا قتل کررہے ہیں۔ سی ٹی ڈی، پولیس اور ایف سی نے بلوچستان میں قبرستان آباد کیے ہیں اور ہسپتالوں کے مردہ خانوں کو مسخ شدہ لاشوں سے بھردیا ہے۔ سی ٹی ڈی پولیس چونکہ صوبے کے زیر انتظام ہے، اس لیے اس کو یہ گھناؤنا کردار ادا کرنے سے صوبائی حکومت روکے جبکہ ایف سی کو سرحدوں تک محدود کرکے اس سے کسٹم اور پولیس کے اختیارات واپس لیے جائیں۔ نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ خاران واقعہ پر فوری طور جوڈیشل کمیشن بنا کر ذمہ دار افسران و اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلاکر قرار واقعی سزا دی جائے۔


