امریکہ کا افغانستان کے منجمد سات ارب ڈالر افغانستان کو نہ دینے کا فیصلہ
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ کابل میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغانستان کے منجمد سات ارب ڈالر افغانستان کو نہیں دیئے جائینگے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اسلامی امارت کے ساتھ مذاکرات بھی معطل کردیئے ہیں۔ امریکی اخبارنے نامعلوم اہلکاروں کے حوالے سے لکھاہے کہ طالبان نے دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے القاعدہ کے سربراہ کو کابل کے ایک گھر میں رکھاہوا تھا۔ان اہلکاروں کے مطابق دوحا معاہدے کے تحت طالبان نے معاہدہ کیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، یاد رہے کہ یکم اگست کو امریکی صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا تھاکہ کابل کے ایک گھر پر ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ کو ہلاک کیا گیا ہے۔ طالبان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں ایمن الظواہری کی افغانستان میں آنے اور اس گھر میں رہنے کے متعلق کوئی خبر نہیں تھی۔طالبان نے پورے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں افغانستان پر کنٹرول کے بعد امریکہ نے افغانستان کے سات ارب ڈالر منجمد کرنے کے علاوہ افغانستان کے بینکوں پر بھی پابندیاں لگائی تھیں۔


