صوبائی و وفاقی حکومت کیلئے سیلاب متاثرین کی مدد ممکن نہیں، ظہور بلیدی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) سابق صوبائی وزیر ورکن اسمبلی ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے کشمیر اور مانسہرہ کے زلزلے کی تباہی سے زیادہ بلوچستان کے عوام مشکل حالات کے شکار ہیں بلوچستان پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے بلوچستان میں 70فیصد سے زیادہ لوگ شرح غربت کے لکھیر کے نیچے زندگی گزارہے ہیں بارشوں،سیلابی ریلوں نے لوگوں کی ساری جمع پونجی پانی بہاکر لے گئی ہے، وفاقی وصوبائی حکومت اپنے وسائل بروئے کار لائے پھر بھی بلوچستان کے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوسکتا، جب تک مخیر حضرات این جی اوز،اوورسیز پاکستانی مدد کیلئے آگئے بڑھے تاکہ ان متاثرین کی زندگیوں میں دوبارہ خوشی لاسکے ان خیالات کااظہار میرظہور احمد بلیدی اپنے ایک بیان میں کیا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا مون سون بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہوئی ہے یہاں پر لوگوں سے مکانات باغات، فصلیں سب کے سب تباہ ہوچکی ہیں آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے صوبے بلوچستان میں 70فیصد سے زیادہ لوگ شرح غربت کے لکھیر کے نیچے زندگی گزارہے ہیں حالیہ بارشوں نے بلوچستان کے لوگوں کی ساری جمع پونجی پانی بہاکر لے گئی ہے، اور بلوچستان میں اتنے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں کہ شاید صوبائی و وفاقی حکومت کیلئے متاثرین کی مدد ممکن نہیں ہے، اس وقت مخیر حضرات این جی اوز، اوورسیز پاکستانی مدد کیلئے آگئے بڑھے تاکہ ان متاثرین کی زندگیوں میں دوبارہ خوشی لاسکے کیونکہ آپ کی مدد کے بغیر بلوچستان کے غریب لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکتے، حکومت اپنے وسائل بروئے کار لائے پھر بھی ان کے نقصانات کا ازالہ بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے یہاں پر لوگ پہلے سے کسمپرسی کی زندگی گزارہے ہیں حالیہ مون سون کی بارشوں نے ان کیلئے پانی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں