PPHI بلوچستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 35 واں اجلاس، متاثرہ مراکز صحت سمیت دیگر امور کا جائزہ
کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) PPHI بلوچستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 35 واں اجلاس چیئرپرسن منیر احمد بادینی کی زیر صدارت ادارے کے ہیڈ آفس میں منعقد ہوا۔ گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق، بورڈنے سالانہ بجٹ برائے مالی سال 2022-23ء اور آڈٹ رپورٹ کی منظوری دے دی۔ سیلابی صورتحال کے دوران لوگوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا اور متفقہ طور پر فیصلے بھی کیے گئے۔ اس موقع پر CEO-PPHI اسفند یار بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر کافی متاثر ہوا ہے، تاہم ہماری ٹیمیں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت حکومت بلوچستان کیساتھ متاثرین کو طبی سہولیات کی فراہمی کے علاوہ ریسکیو کے معاملات میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد اضلاع کے بنیادی مراکز صحت متاثر ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں بینادی مراکزصحت کی مرمت اورانفراسٹرکچرکی بحالی کیلئے اقوام متحدہ کے ڈونرزکے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔چیئرمین بورڈآف ڈائریکٹرزمنیراحمدبادینی نے PPHI-Bبہتراندازمیں اپناکام کررہی ہے تاہم دفتری امورودیگر معاملات میں معیارکی بہتری کیلئے گڈگوننس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں موجودہ حالات کافی تشویشناک ہیں مگربہترعوامی مفادمیں مشترکہ کاوشوں سے ان چیلنجزسے نمٹناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل میں پھنسے ہوئے لوگ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ایسے میں ہمیں حکومت ودیگر متعلقہ حکام کیساتھ مل کرمتاثرہ مراکز صحت اور اسکولوں کی نشاندہی کرنا چاہئے تاکہ جلد ازجلد انہیں بحال کرکے طبی خدمات کاسلسلہ شروع کیا جاسکے۔ بورڈنے ایچ آر کمیٹی کی سفارشات پر محکمہ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ہیڈ آفس، بنیادی مراکز صحت اورڈسٹرکٹ سپورٹ یونٹ میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں اورانکریمنٹ میں اضافے کی منظوری دے دی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ خزانہ نجیب اللہ ترین، چیف سیکشن ہیلتھ پی اینڈڈی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹرعبدالستاربلوچ، اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹرپرویزاحمدنوشیروانی، ڈاکٹررشیدترین، محمدنسیم لہڑی، روشن خورشید بروچہ، پروفیسرڈاکٹر شہنازنصیربلوچ، عرفان احمد اعوان، کمپنی سیکرٹری پی پی ایچ آئی محمدرفیق رئیسانی نے شرکت کی۔


