بلوچستان میں پانی میں پھنسے 260 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے، پی ڈی ایم اے

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پانی میں پھنسے 260 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے کسی علاقے میں کوئی بارش نہیں ہوئی اور واٹر چینلز میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سبی، نصیر آباد، جھل مگسی، لسبیلہ، بی بی نانی، ڈیرہ بگٹی، ژوب، صحبت پور، خضدار میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے آرمی/FC کے تعاون سے ریلیف، ریسکیو اور ڈیوٹرنگ آپریشنز جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سولہ ایمبیڈڈ ریلیف کیمپ کام کرتے رہے۔ ان کیمپوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رہیں اسی طرح سبی میں، 96 پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور 7500 کلو راشن تقسیم کرنے کے لیے دو MI-17 کی کام کرتی رہی منجو شوری، ضلع نصیر آباد سے 90 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا۔ یہاں کشتیوں اور آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے 1900 سے زیادہ متاثرین میں پکا ہوا کھانا تقسیم کرنے کے علاوہ پکا ہوا کھانا اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔ جھل مگسی میں 221 فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے اور 366 افراد کو پکا ہوا کھانا اور پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔ لسبیلہ میں قائم چھ ایمبیڈڈ ریلیف کیمپ سدوری، اورکی 1، اورکی 2، گوٹھ جان محمد، کھرلی اور ویرانی میں فعال رہے جن میں MI-17 کے ذریعے پھنسے ہوئے آٹھ افراد کو نکالنے کے ساتھ ساتھ 3800 کلو راشن تقسیم کیا گیا۔ بی بی نانی میں قائم ایمبیڈڈ ریلیف کیمپ میں 650 افراد کو پکا ہوا کھانا پیش کیا گیا اور 72 افراد کو سبی سے نکالنے کے علاوہ 976 فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے۔ این ایچ اے، کیسکو اور ایس ایس جی سی ایل کی جانب سے اس وقت بی بی نانی میں مرمت کا کام جاری ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں 300 افراد کو پکا ہوا کھانا پیش کرنے کے علاوہ 300 فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے۔ ہنہ اُڑک میں فوج/ایف سی اور پی ڈی ایم اے کی مشترکہ کوششوں سے 2000 فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے۔ ہنہ جھیل میں آرمی/ایف سی کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 217 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ژوب میں مقامی لوگوں کے لیے موبائل ورکشاپ کی سہولت کے ساتھ پچاس فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے جس میں کل 41 موٹر سائیکلوں اور 7 کاروں کی مرمت کی گئی۔ فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا جہاں 106 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ فوج / ایف سی نے موسیٰ خیل بازار میں فری میڈیکل کیمپ لگایا جہاں 70 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ایف سی (سا¶تھ) میں کیچ کے علاقوں پروم، مند، میرانی، بالنیگور اور نوکنڈی میں پانچ فری میڈیکل کیمپ فعال رہے جہاں کل 74 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ پی ڈی ایم اے نے امدادی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے نوشکی میں 100 خیمے، 200 لحاف، 200 مچھر دانیاں، 200 جیریکن اور 200 فوڈ پیکج تقسیم کئے۔ قلعہ سیف اللہ میں 150 خیمے اور 300 فوڈ پیکجز۔ ڈوکی میں، 200 خیمے اور 200 فوڈ پیکجز، لورالائی میں 100 خیمے اور 200 فوڈ پیکجز۔ زیارت میں، 100 خیمے، 200 ترپال، 100 لحاف، 200 مچھر دانی، 100 جیریکن، 100 واٹر کولر اور 200 فوڈ پیکجز، کوئٹہ میں 200 خیمے 220 ترپال، 380 کمبل، 220 لحاف، 200 سلیپنگ بیگ، 230 مچھر دانی، 4 پانی کے ٹینک، 20 شامیانے والے خیمے اور 400 فوڈ پیکج فراہم کئے گئے۔ مولا ندی اور پیٹ فیڈر کینال میں پانی کی سطح کافی کم ہوگئی۔ N-50 پر ٹریفک کھلا ہے۔ تاہم لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے N-70 پر ٹریفک بدستور متاثر ہے۔ پنجرہ پل ٹوٹنے سے N-65 پر ٹریفک کی آمدورفت بدستور مسدود ہے۔ وانگو میں M-8 پر ٹریفک بدستور منقطع ہے۔ سول انتظامیہ، این ایچ اے اور ایف سی کی جانب سے مرمت کا کام جاری ہے۔پی ڈی ایم اے، این ڈی ایم اے، مسلح افواج این جی اوز اجتماعی طور پر حالیہ سیلاب سے متاثرہ لاتعداد لوگوں کو آسانی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں