بیلہ، سیلاب نے کوئی اسکول سلامت نہیں چھوڑا،عمارتیں زمین بوس ہونے کا خطرہ
بیلہ (رپورٹ قادر بخش رونجھو)تحصیل بیلہ میں حالیہ مون سون کی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تحصیل بیلہ کے تمام ہائی۔مڈل اور پرائمری اسکولز کی عمارتوں کو اس قدر شدید متاثر کیا ہے کہ وہ اب ان اسکولز کی عمارتوں میں طلبا و طالبات کے لئے تعلیم حاصل کرنا اپنی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے جس کی واضح مثال ہے کہ گورنمنٹ بلوچستان کے تعلیمی زمہ داران نے بھی تحصیل بیلہ کے اسکولز کی خستہ حال عمارتوں کو دیکھ کر گزشتہ تین ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں بند کر رکھی ہیں مگر اب محکمہ تعلیم بلوچستان کے زمہ داران نے پانچ ستمبر کو دوبارہ تحصیل بیلہ میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اگر واقعی تحصیل بیلہ کے اسکولز میں حکومتی اعلان کے مطابق اگر تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گئی تو ان خستہ حال اسکول کی عمارتیں جو زمین بوس ہونے کو ہیں یہ عمارتیں طلبا و طالبات کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایک بہت بڑے حادثے کا باعث بن سکتے ہیں افسوس کا مقام کہ محکمہ تعلیم بلوچستان کے زمہ داران تحصیل بیلہ کے اسکولز کے عمارتوں کی خستہ حالی کو سمجھنے کے باوجود پھر بھی طلبا و طالبات کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے عملی طور پر اقدامات اٹھاکر ان خستہ حال عمارتوں کی تعمیر ومرمت کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھا رہی جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے تحصیل بیلہ کے اسکولز کی والدین کمیٹی اور عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے مطالبہ کیا ہے کہ کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ تحصیل بیلہ کے تمام بوائز اور گرلز اسکولز کی تعمیر و مرمت کو یقینی بناکر طلبا و طالبات کو درپیش خطرات سے محفوظ بناہیں واضح رہے کہ عرصہ قبل تاریخی شہر بیلہ میں آنے والے زلزلوں کے جھٹکوں کی وجہ سے گرلز ہائی اسکول بوائز ہائی اسکول جن میں گرلز ہائی اسکول و بوائز اسکول بیلہ سٹی و بلوچی گوٹھ بوائز مڈل اسکول بڑا باغ سمیت متعدد اسکولوں میں دراڈیں پڑنے اور ان اسکولز کے گرنے کے خدشات پاکر حکومت بلوچستان محکمہ تعلیم کے زمہ داران نے ان اسکولز میں تعلیم حاصل کرنے کو ناقابلِ قرار دیا تھا مگر کافی عرصہ گزر جانے کے باوجود طلبا و طالبات اپنی زندگیاں ہتھیلی پر رکھ کر تعلیم حاصل کرتے آرہے ہیں مگر آج تک حکومت بلوچستان جس نے زلزلہ سے متاثر ان اسکولز کو تعلیم کے لئے ناقابلِ قرار دیا تھا ان کی تعمیر و مرمت کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔


