کوئٹہ میں 20 گھنٹے تک بجلی معطل، گیس سرے سے ناپید، نظام زندگی مفلوج

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا جبکہ دیگر اضلاع میں بجلی دستیاب ہی نہیں۔ملک میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ بلوچستان ہے، جہاں ہزاروں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں گھرانے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا زمینی رابطہ تمام صوبوں سے کٹ چکا ہے، نجی و سرکاری املاک تباہ ہوگئی ہیں اور صوبے میں سیلاب کے باعث گیس کی فراہمی معطل جبکہ بجلی کا ترسیلی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 24 گھنٹوں کے دوران صرف 4 گھنٹے بجلی فراہم کی جارہی ہے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں بجلی دستیاب ہی نہیں ہے۔ دوسری جانب بجلی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والے سولر پینلز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور دکاندار من مانی قیمتوں پر سولر پینل فروخت کررہے ہیں۔ کوئٹہ میں بجلی کی کمیابی کے باعث سولر پینلز کی ڈیمانڈ بڑھی تو دکانداروں نے بھی پینلز کی قیمتوں میں 6 ہزار روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ صوبے کا دیگر صوبوں سے راستہ منقطع ہونے کے بعد مال کم ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ بجلی فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات کم ہوسکیں۔ چیف ایگزیکٹیو افسر کیسکو کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث بجلی کے 27 گریڈ اور 336 فیڈر متاثر ہوئے ہیں، جن کی بحالی کا کام ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا، اور بجلی کی سپلائی ایک ہفتے میں بحال کر دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں