بلوچستان میں شاہراہوں کی بحالی سے متعلق حکام وضاحت دیں، ٹرانسپورٹرز الائنس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) مشترکہ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن اور بلوچستان ٹرانسپورٹرز الائنس کے ترجمان میرمحمودخان بادینی نے کہا ہے کہ قومی رہنماؤں سردار اختر جان مینگل اور مولانا فضل الرحمن بلوچستان کے موجودہ سیلابی صورت حال سے درپیش سخت مشکلات سے دوچار باسیوں کی داد رسی اور شاہراہوں کی بحالی کے کام کو خود بھی براہ راست مانیٹر کریں اور متعلقہ حکام سے متعلق ہمارا مزید کہنا یہ ہے کہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز نمائندے سہمے سہمے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا این ایچ اے والے پنجرہ بی بی نانی پل بولان خضدار رتو ڈیرو سمیت بلوچستان کی تمام بین الصوبائی شاہراہوں کو واقعی جنگی بنیادوں پر بحالی کا کام کررہے ہیں؟ متعلقہ حکام وضاحت کریں جبکہ گزشتہ روز یعنی 24 گھنٹے پہلے ایک خبر کے مطابق وزیراعظم نے 48 گھنٹوں کی وارننگ جاری کی تھی کہ بلوچستان کولنک کرنے والے شاہراہوں کو بحال کیا جائے۔ وزیراعظم اپنے حکم سے متعلق وضاحت طلب کریں کہ ان احکامات پر کیا عملدرآمد ہوا ہے، ہم عوام کیا توقع رکھیں۔ چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور وفاقی وزیر مواصلات بلوچستان کے دوسرے صوبوں کو لنک کرنے والی تمام شاہراہوں جو تفتان، چمن، پنجگور، تربت سے بیرونی دنیا کو خشکی کے راستے ٹریڈ کے ساتھ اور دو طرفہ آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں سے متعلق ایمرجنسی بنیادوں پر نوٹس لے، اب تک کی پیشرفت سے متعلق عوام ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو آگاہی دیں تاکہ پتا چلے واقعی ایمرجنسی بنیادوں پر تمام وسائل اور مشینری کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ اسی طرح دہانہ سر، فورٹ منرو کے مقامات پر اصل پوزیشن سے بلوچستان کے مال بردار اور مسافر بردار ٹرانسپورٹرز کی آگاہی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بریفنگ مشتہر کریں؟ آخر میں ایک وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس طرح استفسار کو تنقید برائے تعمیر سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں