جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور عملے کا 17 روز سے جاری احتجاجی تحریک ختم کرنیکا اعلان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان کا اپنے بنیادی حق مکمل تنخواہ کی بروقت ادائیگی سمیت ڈسپیریٹی اور ہاؤس ریکوزیشن کی بقایاجات، جامعات کے گرانٹ ان ایڈز میں دس ارب تک کے اضافے اور وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری جامعات کیلئے 150 ارب روپے مختص کرنے، عرصہ دراز سے زیر التوا پروموشنز پر نام نہاد آڈٹ پیرا کے خاتمے کے لئے پچھلے 17 روز سے جاری احتجاجی تحریک آج کامیابی سے ختم ہوئی۔ جامعہ بلوچستان کے ملازمین کو پچھلے دو مہینوں کی مکمل تنخواہ کی ادائیگی کی گئی اور ہاوس ریکوزیشن اور ڈسپیریٹی الانس کی بقایاجات کے لئے جامعہ کی انتظامیہ کی تشکیل شدہ ڈینز کمیٹی سے معاہدہ ہوا بقایاجات کی ادائیگی آنے والے مہینے سے قسطوں میں کی جائیگی، ڈینز کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دوسرا اجلاس 8 ستمبر کو ہوگا جس میں آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ہاوس ریکوزیشن کو پے سلپ کا حصہ بنانے، ایسوسی ایشنز کے منتخب ممبران کو جامعہ کے مختلف کمیٹیوں کا حصہ بنانے سمیت دیگر اہم امور پر سفارشات طے کی جائے گی، اس اہم کامیابی کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا جس میں ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں شاندار کامیابی کے بعد جاری ہڑتال اوردفاتر کی تالا بندی کے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس میں جامعہ کے اساتذہ، آفیسرز، ملازمین، تمام ڈینز، طلبا تنظیموں، سیاسی جماعتوں، لیبر یونین و فیڈریشن، وکلا برادری، سول سوسائٹی خاص کر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے احتجاجی تحریک کا بھرپور ساتھ دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ تمام جامعات خصوصا جامعہ بلوچستان کو درپیش سخت مالی بحران کے مستقل حل اور تعلیم دشمن یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں ترامیم کے لئے طلبا تنظیموں، بلوچستان پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ ملکر گرینڈ الائنس کی پلیٹ فارم سے بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ دریں اثنا طلبا تنظیموں جس میں پشتونخواہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پچار کا مرکزی و صوبائی عہدیداران پر مشتمل نمائندہ وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماں سے ملاقات کی اور اپنی مکمل مدد کی یقین دہانی کرائی، ملاقات میں طے ہوا کہ جامعہ بلوچستان اور دیگر جامعات کو درپیش مالی بحران کے مستقل حل اور یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں ترامیم کے لئے مشترکہ طور پر بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ بروز جمعرات کو بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جامعہ کے آرٹس بلاک سے زبردست احتجاجی ریلی نکالی جو وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوئی۔


