پشین میں خوراک کی قلت، سیلاب متاثرین حکومتی امداد سے محروم

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے سرحدی ضلع پشین میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے بچوں کے لیے خشک دودھ ختم ہوگیا ہے۔خواتین بچے اور بوڑھے آسمان تلے بھوکے بیٹھے ہیں شہریوں نے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے مناظر شیئر کیے ہیں۔شہریوں کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریبا 150 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال جنوب کی جانب افغانستان بارڈر سے متصل علاقے ضلع پشین کے تحصیل برشور توبہ کاکڑی یونین کونسل ابراہیم خان، یونین غیژ اور یونین کونسل انجنی میں خوراک کی قلت ہو گئی ہے۔ان کے مطابق حالیہ طوفانی بارشوں نے بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع پشین کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ہمارے علاقے میں اس وقت خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بچوں کے لیے خشک دودھ ختم ہوگیا ہے۔خواتین بچے اور بوڑھے آسمان تلے بھوکے بیٹھے ہیں۔نہ کوئی حکومتی امداد اب تک پہنچی ہے نہ کوئی غیر سرکاری تنظیموں نے اس علاقے کا دورہ کیا ہے۔علاقہ مکین مبین خان کا کہنا ہے کہ مون سون کی حالیہ غیر معمولی بارشوں سے تحصیل برشور توبہ کاکڑی میں کئی کچے مکانات منہدم ہو گئے ہیں اور سینکڑوں ایکڑ پر محیط زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔میٹھے سیب کے باغات اور انگور اس علاقے کی پہچان ہیں۔بلوچستان کا یہ دور دراز کا علاقہ آج بھی زندگی گزارنے کے لیے درکار بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہاں نہ گیس ہے، نہ موبائل سگنل مکمل طور پر بحال ہیں اور نہ بجلی کنکشن کا خاص انتظام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں