ہرنائی میں بے امنی اور بھتہ گیری ریاستی سرپرستی میں ہو رہی ہے، خوست دھرنا کمیٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ضلع ہرنائی کے خوست میں 13اور 14 اگست کو ہونے والے واقعے اور فورسز کی فائرنگ سے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی موت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ کیخلاف اور عوامی مطالبات کی حل کیلئے خوست میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوا۔ ریلی میں خالق داد بابر کے قتل میں ملوث آفیسر اور سپاہیوں کی گرفتاری، زخمیوں کی ایف آئی آر درج کرنے، ضلع ہرنائی کے تمام عوامی مقامات سے فوج اور ایف سی کے مورچے ہٹانے، کول مائنز پر بھتہ گیری کے خاتمے، ضلع کی گمبھیر اور اذیت ناک صورتحال پر جوڈیشل کمیشن بنانے، سول انتظامیہ کے اختیارات بحال کرکے اس میں فورسز کی مداخلت بند کرنے اور خالقداد بابر کو حکومتی سطح پر شہید قرار دیکر ان کے لواحقین اور زخمیوں کو Compensation دینے کے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ احتجاجی جلسہ عام سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ولی داد میانی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ملک تیمور شاہ تارن، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما وہاب خان کاکڑ، جمعیت علما اسلام کے تحصیل صدر مولوی حسن شاہ، تحریک انصاف کے عبدالحکیم، جمعیت علما اسلام پاکستان کے حافظ عطا محمد اور دیگر سیاسی رہنماؤں یوسف شاہ، ملک زمان ترین، میر وائس شاہ، مولوی زاہد شاہ نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ احتجاجی تحریک کا آج 20واں دن ہے لیکن حکومت نے عوامی مطالبات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور حکومتی و اعلیٰ انتظامی آفیسران کے ساتھ دھرنا کمیٹی کے اجلاس میں اس سلسلے میں جو فیصلے ہوئے تھے ان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا جارہا، جس کی وجہ سے احتجاجی تحریک کو مزید وسعت اور سخت کرنے پر مجبور ہے اور دھرنا کمیٹی کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ خوست دھرنا اور جنوبی پشتونخوا میں جاری احتجاجی تحریک کے ساتھ 5 ستمبر بروز سوموار ہرنائی میں ضلع کے انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے بھی دھرنا شروع ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ اس ملک میں استعماری و آمرانہ قوتوں اور فوجی و سول بیورو کریسی نے اپنی استعماری بالادستی کو دوام دینے اور ہمارے وسائل پر قبضہ گیری کو مضبوط بنانے کیلئے پورے پشتونخوا وطن پر مسلط کی ہے۔ ایک ہی ملک کے اندر پنجاب میں تعمیر و ترقی، انسانی و شہری آزادی، امن اور صوبے کے اندر سول بالادستی جبکہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان میں مارش لاء سے بدتر اذیت ناک صورتحال مسلط کی گئی ہے۔ آج ضلع ہرنائی اور زیارت کے وسائل، پانی، جنگلات، پرفضا مقامات پر فورسز کے براہ راست قبضے کیلئے بے امنی اور بھتہ گیری مسلط ہے اور اس حقیقت سے ہر باشعور شہری، سیاسی کارکن اور عوام آگاہ ہیں کہ ضلع ہرنائی میں بے امنی اور بھتہ گیری ان ریاستی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔ وقت و حالات اور عوام کے غم و غصے کا تقاضا ہے کہ یہ استعماری و آمرانہ قوتیں عوام کی آبی و معدنی وسائل اور زمینوں پر طاقت کے ذریعے قبضے کی پالیسی ترک کرکے ملکی آئین کے تحت اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرے۔


