دیگر ممالک کی نسبت پاکستانی کورونا سے کم متاثر ہوئے، شفقت محمود

وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ہم نے اس وبا سے نمٹنے کےلیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا فیصلہ کیا، دیگر ممالک کی نسبت پاکستانی کورونا سے کم متاثر ہوئے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کورونا وائرس اور ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کورونا زیادہ نہیں پھیلا ، نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی اور این این سی سی بنائی گئی، تنقید کرنے والوں نے کیا ان کی پرواہ کی جو روز کمانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں، تنقید کرنے والوں نے کیا ان کی پرواہ کی جو یومیہ اجرت سے محروم ہوگئے تھے۔شفقت محمود نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جلوس نکل رہے ہیں، یورپ میں احتجاج ہو رہا ہے، دنیا میں لوگ بے روزگاری کے باعث سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غریب کا خیال رکھنا کیا کنفیوژن ہے؟ کورونا وبا سے غریب طبقے کی روز مرہ کی زندگی زیادہ متاثر ہوئی ، لاک ڈاؤ ن کی وجہ سے دہاڑی دار اور غریب طبقے کو پریشانی کا سامنا تھا، ذرائع آمدن ختم ہونے کے بعد پنڈی میں ایک شخص نے بیوی قتل کرکے خودکشی کرلی۔وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا تھا کہ غریب عوام کے لیے یہ جو بے حسی ہے اس پر افسوس کرنا چاہیے، لاک ڈاؤن کیا گیا مگر لامحدود وقت تک تو نہیں کیا جاسکتا ہے، جو لوگ ہمیں بھاشن دیتے تھے کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے اب مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ان کا 18ویں ترمیم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم ایک قانون ہے آئین کا حصہ ہے اس کی قدر کرتے ہیں، اٹھارویں ترمیم آئین کا حصہ ہے لیکن کیا اس کا ذکر بھی نہ چھیڑا جائے؟ اٹھارویں ترمیم میں کئی ایشوز ہیں، کئی ایسے معاملات صوبے کو دیئے گئے جو وفاقی حکومت کا سبجیکٹ تھے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کرائسز نے اٹھارہویں ترمیم کی بعض کمزوریاں بھی ظاہر کر دیں، بجلی گیس کہاں سے صوبائی معاملہ ہوگیا، سندھ نے جو آرڈیننس بھیجا اس میں بجلی اور گیس صوبائی سبجیکٹ نہیں تھا، ایک طرف اٹھارویں ترمیم کا واویلا تو دوسری جانب اٹھارویں ترمیم کے خلاف اقدامات کیے گئے۔شفقت محمود نے کہا کہ اسپیکر صحت یاب ہوگئے ہیں، ان شااللّٰہ جلد وہ ہمارے درمیان ہوں گے، حکومت کی تجویز تھی کہ ورچوئل اجلاس ہونا چاہیے، قومی اسمبلی کے فزیکل اجلاس کے مطالبے کرنے والے آج اس ایوان میں موجود نہیں۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے جو تقاریر ہوئیں اس میں کوئی تجاویز نہیں دی گئیں، تجاویز میں کورونا کو ہدف بنانے کے بجائے حکومت کو ہدف بنایا گیا، ہم نے اسمبلی تقاریر سے ابھی تک کچھ خاص حاصل نہیں کیا، تقاریر صرف حکومت کو رگڑنے کے لیے کی گئیں۔شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے تعلیمی ادارے ،شادی ہال ٹرانسپورٹ بند کر دیئے، ہمارے پاس یہ آپشن تھا لوگوں کے روزگار کے لیے کچھ نہ کیا تو حالات خراب ہوں گے، اسکول بند کرنے اور امتحانات کے بارے میں مشاورت سے فیصلے کیے۔شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ہم کورونا کے خلاف لڑنے کی بجائے آپس میں لڑتے نظر آئے، وفاق نے صحت کے شعبے میں سندھ سمیت تمام صوبوں کو سامان فراہم کیا، صحت کا سامان فراہم نہ کرنے پر بجلی گیس کے سندھ نے بلز روک دیئے، بہت سی کمزوریوں کے باوجود مرکز اور صوبے مل کر چل رہے ہیں۔شفقت محمو د نے لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی نظام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے 15 دن کے اندر ٹیلی اسکول کا افتتاح کیا، ہم طلبہ کے لیے ایک ریڈیو اسکول بھی شروع کرنے والے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں