ہرنائی سے سیکورٹی فورسز کے مورچے اور کیمپ ہٹائے جائیں، آل پارٹیز لورالائی
لورالائی (انتخاب نیوز) لورالائی میں آل پارٹیز کے زیراہتمام ضلع ہرنائی کے خوست میں 14 اگست کو نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی موت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی جنرل سیکرٹری اسفندیار کاکڑ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ احتجاجی مظاہرے میں خالق داد بابر کے قاتلوں کی گرفتاری، ضلع ہرنائی کے تمام عوامی مقامات سے فوج اور ایف سی کے مورچے اور کیمپ ہٹانے، ضلع میں ریاستی سرپرستی میں جاری بھتہ گیری کے خاتمے، جوڈیشل کمیشن کے قیام، سول انتظامیہ کے اختیارات بحال کرکے اس میں فورسز کی مداخلت بند کرنے اور خالقداد بابر کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ جلسہ عام سے این ڈی ایم کے اسفندیار کاکڑ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری عبداللہ بابت، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا، پشتون تحفظ موومنٹ کے صوبائی کوآرڈینیٹر نور باچا اور دیگر سیاسی رہنماؤں منظور کاکڑ، نعمت جلالزئی، شریف کاکڑ ایڈووکیٹ، عصمت کامریڈ، عمر کدیزئی اور ظریف خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ریاست کے استعماری و آمرانہ قوتوں اور فوجی و سول بیوروکریسی نے پورے پشتونخوا وطن پر بے امنی، سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بندوق کی نوک پر بھتہ گیری اور قبضہ گیری مسلط کی ہے اور ضلع ہرنائی کی موجودہ اذیت ناک صورتحال بھی ان ریاستی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے ضلع ہرنائی کی معدنیات و جنگلات اور دیگر وسائل پر دائمی قبضہ کرنے کیلئے خوف و ہراس اور بھتہ گیری مسلط کی ہے اور کول مائنز پر ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ گیری ریاستی سرپرستی میں جاری ہے اور اس حقیقت سے ہر باشعور شہری آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالقداد بابر کو جاں بحق ودیگر کو زخمی کرنے اور ضلع کی پوری عوامی آبادیوں، دیہات، کلیوں کو یرغمال اور سول انتظامیہ کو مفلوج بنانے اور بھتہ گیری اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے اور اس اذیت ناک صورتحال سے نجات کیلئے فیصلہ کن تحریک ناگزیر ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اولین فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ہرنائی سمیت پورے جنوبی پشتونخوا اور بلوچستان میں تمام معاملات اور اختیارات صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کی بجائے فوج اور ایف سی کے پاس ہے جو غیر آئینی و غیر قانونی اور ان فورسز کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سراسر منافی ہے۔ مقررین نے کہا کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کی بحالی کے بجائے حکومتی وزیر اور ضلعی انتظامیہ لورالائی میں حکومتی امداد ذاتی وفاداری کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں مصروف ہیں جس سے عوام میں سخت غم و غصہ پیدا ہواہے۔


