سرکاری اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال 34 ویں روز بھی جاری، متعدد کی حالت غیر

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان تاد م مرگ بھوک ہڑتال 34ویں روز بھی جاری رہا،اساتذہ قائدین کی حالت تشویشناک 8میں سے پانچ سول ہسپتال میں زیر علاج،جن میں منظور بلوچ،عنایت کاکڑ،سعید ناصر،میر احمد شاہد بنگلزئی اور قاسم خان اچکزئی شامل ہیں جبکہ مجیب غرشین،ناصر مینگل اور نعیم کاکڑ کو کیمپ میں طبی امداد فراہم کی گئی،شدید کمزوری،بخار،سردرد،تھکاوٹ،چکر،فشار خون اور شوگر سول انتہائی کم،اساتذہ قائدین ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوگئے واضح رہے 2ستمبر کو وزیراعلی بلوچستان نے اساتذہ اپگریڈیشن کی منظوری دے دی ہیں اور متعلقہ حکام کو سمری پیش کرنے اور فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے اساتذہ وعوامی حلقوں میں بے چینی پائی جارہی ہے،اپگریڈیشن منظوری کے بعد مختلف اضلاع سے ہزاروں اساتذہ کوئٹہ پہنچ چکے ہیں اورکیمپ میں اساتذہ کی بہت بڑی تعداد موجود رہتی ہے،علاوہ ازیں گزشتہ روز بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء وفاقی وزیرپانی وبجلی میر محمد ہاشم نوتیزئی نے ساتھیوں کے ہمراہ سول ہسپتال کوئٹہ میں اساتذہ قائدین کی عیادت کی اور اس کے بعد تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی اور ہمدردی کیلئے آئے،انہوں نے اساتذہ قائدین کی کامیاب احتجاجی تحریک پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی قربانیوں کو تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا اور یاد رکھا جائیگا،آپ نے جس جرات اور بہادری سے صوبہ بھر کے ہزاروں مرد وخواتین اساتذہ کی بہترین نمائندگی کا حق ادا کیا ہے،وفاقی وزیر نے پارٹی کی طرف سے ہرممکن تعاون کا اعلان کیا،بلوچستان نیشنل پارٹی اساتذہ وتمام ملازمین کے ساتھ ہیں ان کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں