7ستمبر کا تاریخ ساز فیصلہ امت کیلئے اہمیت کا حامل ہے، جے یو آئی نظریاتی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علما اسلام (نظریاتی)پاکستان کے مرکزی سینئر نائب امیر صوبائی امیر بلوچستان مولانا عبدالقادر لونی اسلام آباد میں عہدیدران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 ستمبر امت مسلمہ کے لیے یوم الفتح ہے کہ تحریک ختم نبوت کی مسلسل جدوجہد رنگ لا کر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ 7 ستمبر بھی ملک کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے، یہ دن صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے حضورﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ ہوا۔ اس دن آنحضرتﷺ کی عزت وناموس کا جھنڈا بلند ہوا۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ذلیل و رسوا ہوئے۔ 7 ستمبر کے دن پاکستان کی پارلیمنٹ اور پوری قوم نے تاریخ ساز فیصلے نے اس فتنے کی جڑوں پر کاری ضرب لگا کر قادیانیوں کی جڑ کو کاٹ کر ملت اسلامیہ سے کاٹ کر علیحدہ کردیا اور انہیں آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت اسلام وملک کے خلاف سازش اور اعلانیہ بغاوت ہے۔ فتنہ قادیانیت مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے اور جہاد مسخ اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم سازشوں کی جڑ تھا۔ انگریز نے اسی جذبہ جہاد کو مسلمانوں کے دل ودماغ سے نکالنے کے لیے قادیانی کی شکل میں جعلی اور جھوٹا نبی پیدا کیا۔ بدکردار شخص مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کردیا اور اس بدبخت نے انگریز کیخلاف جہاد کو حرام قرار دیا۔ علماء حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔ اکابرین نے قادیانیت کیخلاف بھرپور مزاحمت کرکے منصب ختم نبوت کی حفاظت کی اور مسلمانوں کو گمراہی اور ارتداد سے بچایا۔ جدوجہد کے نتیجے میں سات ستمبر کا تاریخ ساز فیصلہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ختم نبوت کے عزم کا ایک یاد گار اور تاریخی دن ہے۔ ہزاروں مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے طویل جدوجہد کے بعد پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قراردلوانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے، ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے۔ اگر عقیدہ ختم نبوت محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن آج ہمیں تجدید عہد کرنا ہوگا کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں