جیکب آباد، سیلابی ریلے سے 4گاؤں ڈب گئے، 500گھر مکمل تباہ
جیکب آباد (نامہ نگار) جیکب آباد میں شکارپور سے آنے والے سیلابی ریلے سے 4گاؤں ڈب گئے، 500گھر مکمل تباہ، 7ہزار سے زائد لوگ متاثر، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصل برباد ہوگئی۔ جیکب آباد کے نواحی گاؤں شیرانپور تھیم، گاؤں پیرل کھوسو، نہال کھوسو سمیت 4گاؤں شکارپور سے آنے والے سیلابی ریلے میں مکمل ڈوب گئے ہیں جس کی وجہ سے 500سے زائد گھر مکمل تباہ ہوچکے ہیں اور 7ہزار سے زائد آبادی شدید متاثر ہوئی ہے، سیلابی ریلے کی وجہ سے 4ہزار ایکڑ پر کھڑی چاول کی فصل زیر آب آکر برباد ہوچکی ہے۔ گاؤں شیرانپور تھیم کے سیاسی و سماجی رہنما اسلم میر تھیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شکارپور سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے آغا تیمور خان پٹھان نے اپنی زرعی زمین کو بچانے کے لیے پٹھان واہ نہر کے قریب سے گزرنے والی سڑک کو غیرقانونی طریقے سے کٹ لگا کر پانی کا رخ ہمارے علاقے کی طرف کردیا جس کی وجہ سے ہمارے 4گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں سینکڑوں گھر منہدم ہوچکے ہیں ہزاروں لوگ بے گھر ہوکر دربدر ہوگئے ہیں ہماری تیار فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں جس کی وجہ سے ہمارا 60کروڑروپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ سابق ایم پی اے نے اپنی زرعی زمین کو بچانے کے لیے ہزاروں کو لوگوں کوبرباد کردیا ہے، مقامی انتظامی سمیت وزیر اعلیٰ سندھ کے نمبروں پر اطلاع دی گئی لیکن کوئی ہماری مددکو نہیں آیا، انہوں نے کہا کہ جیکب آباد، گڑہی خیرو مین روڈ 600فٹ تک پانی کی زد میں آچکا ہے جس کی وجہ سے ہمارے علاقوں کا زمینی راستہ بند ہوچکا ہے، سماجی رہنما اسلم میر تھیم کے مطابق سیلابی ریلے کی وجہ سے ہمارے علاقے کی دو خواتین بھی فوت ہوگئی ہیں، انہوں نے کہا کہ تاحال شکارپور سے آنے والے سیلابی ریلے کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے پانی مسلسل ہمارے علاقوں کی طرف آرہا ہے جبکہ ہمارے علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے بھی کوئی انتظام نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ پانی کو نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ مزید تباہی سے بچا جاسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور ہمارے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع کرکے لوگوں کو ریسکیو کیا جائے اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے۔ دوسری جانب سے رکن سندھ اسمبلی ممتاز حسین جکھرانی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ جلد پانی نکالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔


