خوست دھرنا کمیٹی کا احتجاج، سیکورٹی چیک پوسٹوں کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات پیش

ہرنائی (انتخاب نیوز) ضلع ہرنائی کے خوست میں 13اور 14اگست کو فورسز کی فائرنگ سے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی موت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ کیخلاف اور عوامی مطالبات کی حل کیلئے مختلف سیاسی پارٹیوں اور دھرنا کمیٹی کی جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں گزشتہ روز شاھرگ میں احتجاجی مظاہرہ اور عظیم الشان جلسہ عام نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان اور دھرنا کمیٹی کے رہنماء احمد جان خان کی صدارت میں منعقد ہوا،خوست سے سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل جلوس میں عوام اور سیاسی کارکنوں و نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ عام میں شرکت کی۔ مظاہرین نے خالق داد بابر کے قاتلوں کی گرفتاری، زخمیوں کا ایف آئی آر درج کرنے، ضلع ھرنائی کے تمام عوامی مقامات سے فوج اور ایف سی کے مورچے ہٹانے، کول مائنز پر بھتہ خوری کے خاتمے، ضلع کی گمبھیر اور اذیت ناک صورتحال پر جوڈیشل کمیشن بنانے، سول انتظامیہ کے اختیارات بحال کرکے اس میں فورسز کی مداخلت بند کرنے اور خالقداد بابر کو حکومتی سطح پر شہید قرار دیکر لواحقین اور زخمیوں کو دینے کے آئینی و قانونی اور جمہوری مطالبات کی حق میں نعرے لگائیں۔ احتجاجی جلسہ عام سے احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے، پشتون تحفظ موومنٹ کے صوبائی کوآرڈینٹر نور باچا، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے ہارون خان بازی، جمعیت علما اسلام کے تحصیل امیر مولوی حسن شاہ، مولوی علی محمد عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی سینئر نائب صدر ملک ظریف خان تحریک انصاف کے عبدالحکیم، جمعیت علما اسلام پاکستان کے حافظ عطا محمد نے خطاب کیا۔ مقررین نے سانحہ خوست اور عوامی مطالبات پر حکومت اور ذمہ دار حکام کی مجرمانہ خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان مطالبات کو بلا تاخیر تسلیم کرنے کو لازمی قرار دیا اور احتجاجی تحریک کو مزید دوام دیکر سخت کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ 14اگست کو خوست میں عوامی مطالبات کے حق میں 27 روز سے ضلع ھرنائی اور جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں احتجاجی تحریک جاری ہے اور سیاسی پارٹیوں و عوام نے متحد ہوکر آواز بلند کی ہے،جس پر حکومتی خاموشی ایک بڑے عوامی ردعمل اور جمہوری مزاحمت کا سبب بنے گا۔ مقررین نے کہا کہ پنجاب کے استعماری و آمرانہ قوتوں اور فوجی و سول بیوروکریسی نے پشتون، بلوچ اقوام و عوام سے متعلق اپنی75 سالہ پالیسی ترک کرکے اپنے مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ پشتونخوا وطن کے طول و عرض میں باجوڑ، سوات سے لیکر وزیرستان اور ھرنائی تک پشتون عوام نے ریاستی قبضہ گیری کیخلاف جمہوری مزاحمت شروع کی ہے اور یہ جمہوری مزاحمتی تحریکیں یکجا ہوکر پشتون قومی نجات کی فیصلہ کن تحریک میں تبدیل ہوں گی اور وقت و حالات کا تقاضا اور پشتون عوام کا قومی فیصلہ اور مطالبہ بھی یہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ ضلع ھرنائی میں ماہانہ کروڑوں روپے کی بھتہ گیری کول مائنز پر فورسز اور ریاستی اداروں کی موجودگی اور سرپرستی میں جاری ہے اور یہ ناروا عمل ان کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ہے اور اسی طرح عوامی آبادیوں میں مورچے قاہم کرکے بھاری اسلحہ کے استعمال سے عوام کو خوفزدہ و دہشت زدہ کرکے معدنیات، آبی وسائل اور عوام کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے جو غیر آئینی و غیر قانونی اور ملکی مفاد کے منافی عمل ہے۔ مقررین نے کہا کہ خوست دھرنا جاری رہیگا اور جنوبی پشتونخوا میں جاری احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کے بعد 15 ستمبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کے اجلاس میں تحریک کو مزید وسعت دینے اور سخت جمہوری اقدامات اٹھانے کیلئے اہم فیصلے کیے جائینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں