بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز ریلیز نہ ہوسکے، متعدد منصوبے سست روی کا شکار

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان میں ڈھائی ماہ گزر جانے کے باوجود ترقیاتی فنڈز ریلیز نہ ہوسکے،نئے سال 2022-23ء کے نئے ترقیاتی وجاری اسکیمات پر کام سست روی کاشکار ہوگیا ہے۔بلوچستان کے سال 2022-23ء کی ترقیاتی (پی ایس ڈی پی)مد میں رکھے گئے فنڈز ریلیز نہ ہوسکے جس کے بعد صوبے میں نئے پی ایس ڈی پی میں رکھے گئے جاری ونئے ترقیاتی اسکیمات پر کام وفائل ورک سست روی کاشکار ہونے لگیں،حکومت بلوچستان نے مالی سال 2021-22کے دوران ترقیاتی مد میں 92ارب روپے کے فنڈز کا اجرا کیاتھا تاہم سال کے آخر میں فنڈز کاایک حصہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ سرنڈر ہوگئے تھے نئے سال 2022-23ء مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی)کا حجم 191 ارب 50 کروڑ روپے ہے۔جس میں 3367 جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 133 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔3470 نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 59 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے اور بجٹ میں مجموعی خسارہ 72.85 ارب روپے ظاہر کیاگیاہے۔ترقیاتی مد میں فنڈز استعمال نہ ہوئے تو شاید آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خسارہ مزید کم ہوجائے گاتاہم اس سلسلے میں جب حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ سے رابطہ کیاگیا توپہلے انہوں نے ایک گھنٹے کا وقت دیا بعدازاں رابطہ کرنے پر فون اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں